اہم ترین

ٹرمپ کا جنوبی کوریا پر ٹیرف وار، درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس بڑھانے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں، لکڑی اور دواسازی کی مصنوعات پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا الزام ہے کہ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ اس تجارتی معاہدے پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے جو پہلے واشنگٹن کے ساتھ طے پایا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ جنوبی کوریا کی قانون ساز اسمبلی نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے “تاریخی تجارتی معاہدے” کو نافذ نہیں کیا، اسی وجہ سے ٹیرف 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ انہیں امریکی فیصلے سے قبل کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی۔ دفتر کے مطابق جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت کم جنگ کوان، جو اس وقت کینیڈا میں موجود ہیں، جلد واشنگٹن جائیں گے اور امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل ہی امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک اہم تجارتی اور سیکیورٹی معاہدہ طے پایا تھا، جسے صدر ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اکتوبر میں حتمی شکل دی تھی۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے جنوبی کوریا کی گاڑیوں پر عائد 25 فیصد ٹیرف کم کر کے 15 فیصد کر دیا تھا، جبکہ سیول نے امریکہ میں سرمایہ کاری کے وعدے کیے تھے۔

تاہم یہ معاہدہ جنوبی کوریا میں قانونی پیچیدگیوں کا شکار رہا۔ صدارتی دفتر کا مؤقف ہے کہ یہ ایک مفاہمتی یادداشت ہے، جس کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری نہیں، مگر اس پر اب بھی بحث جاری ہے۔

اگر امریکی صدر کا نیا فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے تو جنوبی کوریا کی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ گاڑیوں کی صنعت امریکہ کو ہونے والی جنوبی کوریا کی برآمدات کا 27 فیصد ہے، جبکہ امریکہ ملک کی تقریباً نصف کار ایکسپورٹس خریدتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹیرف میں اضافے سے جنوبی کوریا کو جاپان اور یورپی یونین کے مقابلے میں نقصان ہو سکتا ہے، جن کے ساتھ امریکہ نے 15 فیصد ٹیرف پر معاہدے کر رکھے ہیں۔

یہ اقدام صدر ٹرمپ کی حالیہ سخت تجارتی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل وہ کینیڈا اور یورپی ممالک کو بھی بھاری ٹیرف کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

پاکستان