فرانس کی ایک عدالت نے سابق سینیٹر جوئیل گیریاؤ کو خاتون رکنِ پارلیمنٹ کو نشہ آور دوا پلا کر جنسی حملے کی نیت رکھنے کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنا دی ہے، جس میں سے 18 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے۔
اے ایف پی کے مطابق 68 سالہ جوئیل گیریاؤ نے نومبر 2023 میں قومی اسمبلی کی رکن سینڈرین جوسو کو شراب میں ایم ڈی ایم اے (ایکسٹیسی) ملا کر پلائی۔ متاثرہ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ مشروب پینے کے بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور انہیں اسپتال جانا پڑا۔
طبی رپورٹس میں سینڈرین جوسو کے خون میں نشہ آور دوا کی بڑی مقدار پائی گئی جبکہ گیریاؤ کے فلیٹ سے بھی ایکسٹسی برآمد ہوئی۔ س
سینڈرین جوسو نے کہا کہ واقعے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ، ڈراؤنے خوابوں اور نفسیاتی مسائل کا شکار رہیں اور انہیں طویل عرصہ علاج کروانا پڑا۔
سابق سینیٹر نے عدالت میں الزام کو حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بیوقوف کہا، تاہم استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نشہ دانستہ طور پر دیا گیا اور اس کا مقصد جنسی زیادتی تھا۔ عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے سزا سنائی۔
جوئیل گیریاؤ اس واقعے کے بعد سینیٹ سے مستعفی ہو گئے تھے اور انہیں اپنی سیاسی جماعت سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ ان کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔











