اہم ترین

صدف احسان: وہ رکن قومی اسمبلی جنہیں انہی کی جماعت نے پہچاننے سے انکارکردیا

یہ پاکستان کی انتخابی تاریخ کا ایک ایسا دلچسپ باب ہے جس میں ایک سیاسی جماعت اپنی ہی منتخب خاتون رکنِ قومی اسمبلی کو ماننے سے انکاری ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اسے پوری سنجیدگی سے ایم این اے تسلیم کر رہا ہے۔ بدھ 28 جنوری 2026 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک غیر معمولی فیصلہ سناتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام پاکستان (ف) کی خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب صدف احسان کی رکنیت بحال کر دی، حالانکہ پارٹی اب بھی بضد ہے کہ یہ خاتون تو ہماری تھیں ہی نہیں۔

یہ معاملہ اگرچہ فیصلے کے بعد ختم ہونا چاہیے تھا، مگر پاکستانی سیاست کی روایت کے مطابق امکان یہی ہے کہ کہانی ابھی آگے چلے گی اور کوئی نہ کوئی فریق کسی نہ کسی فورم پر پھر دستک دے گا۔ فافن کے مطابق یہ تنازعہ الیکشن کمیشن کے حالیہ حکم اور سابقہ نوٹیفکیشنز کی روشنی میں خاصا “دلچسپ” بلکہ کچھ لوگوں کے لیے خاصا “شرمندہ کن” بھی ہے۔

قصہ اس وقت شروع ہوا جب 4 مارچ 2024 کو الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر جے یو آئی پی کی تین امیدواروں کو کامیاب قرار دیا، جن میں تیسرا نام صدف احسان کا تھا۔ اعلان کے فوراً بعد پارٹی کو جیسے اچانک یاد آ گیا کہ یہ نام تو ہماری فہرست میں تھا ہی نہیں۔ پھر حنا بی بی اور خود جماعت میدان میں آ گئیں اور بتایا گیا کہ اصل امیدوار تو صدف یاسمین تھیں، مگر انہوں نے کاغذات جمع ہی نہیں کرائے۔ یعنی امیدوار بھی موجود نہیں، نشست بھی چاہیے، اور قصوروار وہ خاتون ٹھہریں جو کاغذات بھی جمع کرا چکی تھیں اور کامیاب بھی ہو چکی تھیں۔

معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا۔ پہلے پشاور ہائیکورٹ نے صدف احسان کو بحال کیا، پھر سپریم کورٹ نے وہ حکم معطل کر دیا، اور یوں ایک بار پھر رکنیت لٹک گئی۔ اس دوران آئینی ترمیم آئی، نیا فورم بنا، اور بالآخر کیس واپس الیکشن کمیشن کے پاس آ گیا، جس نے اب فیصلہ دیا کہ صدف احسان ہی اس نشست کی حقدار ہیں، چاہے پارٹی انہیں اپنا مانے یا نہ مانے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کے وکیل نے صدف احسان کو جماعت کے لیے “اجنبی” قرار دیا، جبکہ صدف احسان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان برسوں سے اسی جماعت سے وابستہ ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کی فہرست میں جس “صدف یاسمین” کا ذکر ہے، وہ دراصل انہی کی طرف اشارہ تھا، کیونکہ ان کی والدہ کا نام یاسمین ہے۔ یعنی نام بھی اپنا، نشست بھی اپنی، مگر جماعت کہتی ہے: نہیں، ہمیں یاد ہی نہیں۔

الیکشن کمیشن نے تمام دلائل، ریکارڈ اور بیانات دیکھنے کے بعد آخرکار یہ فیصلہ دے دیا کہ محض سیاسی انکار کسی منتخب رکن کو اسمبلی سے باہر نہیں کر سکتا۔ یوں صدف احسان ایک بار پھر ایم این اے بن گئیں، اور جے یو آئی پی شاید یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ سیاست میں بعض اوقات اپنی ہی فہرستیں بھی حیران کر دیتی ہیں۔

پاکستان