بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کے خلاف بنگلورو کے ہائی گراؤنڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی بھارتی فلم کانتارا میں دکھائی گئی دیوا روایت کی نقالی کرتے ہوئے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور سماج میں نفرت اور دشمنی کو فروغ دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 نومبر 2025 کو گوا میں منعقدہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں رنویر سنگھ نے جنوبی بھارتی فلم کانتارا: اے لیجنڈ – چیپٹر 1 کے دیوا سین کی نقالی کی تھی، جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
بنگلورو کے وکیل پرشانت میتھل نے اب رنویر سنگھ کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرادیا ہے۔
یہ مقدمہ بھارت کے مقامی قانون بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعات کے تحت درج کرایا ہے۔ان پر الزام ہے کہ اداکار نے پنجورلی اور گُلّیگا دیوا سے جڑے جذبات کی بھدّی اور مضحکہ خیز نقل کی۔
ایف آئی آر میں واضح کیا گیا ہے کہ چاوُنڈی دیوا کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں ایک نہایت مقدس دیوی مانی جاتی ہیں، جو نسوانی طاقت کی علامت ہیں۔
رنویر سنگھ نے اسٹیج پر ایسا رویہ اختیار کیا اور ایسے ریمارکس دیے جن سے قابلِ احترام دیوا روایت کی توہین ہوئی۔ اور چاوُنڈی دیوا کو بھوتنی کہا۔
شکایت کنندہ کے مطابق دیوی کو بھوت کے طور پر پیش کرنا ایک سنگین غلط بیانی ہے، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور عقیدت مندوں کو ذہنی اذیت پہنچی۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ رنویر سنگھ نے یہ عمل جان بوجھ کر اور بدنیتی سے کیا ، جس کا مقصد مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور سماج میں نفرت و دشمنی کو فروغ دینا تھا۔











