اہم ترین

ایلون مسک کے اے آئی خواب ٹیسلا کو مہنگے پڑ گئے : منافع میں 61 فیصد کمی

الیکٹرک گاڑیوں کی دنیا کی بڑی کمپنی ٹیسلا کو سال 2025 کی آخری سہ ماہی میں بڑا مالی دھچکا لگا ہے۔ کمپنی نے بدھ کے روز بتایا کہ اس کے منافع میں 61 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات گاڑیوں کی کم فروخت اور مصنوعی ذہانت (اے ائی) پر بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔

ٹیسلا کے مطابق 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں منافع 840 ملین ڈالر رہا، جبکہ ایک سال قبل اسی عرصے میں یہ 2.1 ارب ڈالر تھا۔ کمپنی کی آمدن بھی 3.1 فیصد کم ہو کر 24.9 ارب ڈالر رہ گئی۔

یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ٹیسلا پہلے ہی جنوری کے آغاز میں یہ اعتراف کر چکی تھی کہ چوتھی سہ ماہی اور پورے سال میں گاڑیوں کی ترسیل کم رہی۔ اسی لیے مارکیٹ میں منافع میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔

کمپنی کی پریزنٹیشن کے مطابق، مالی دباؤ کی دیگر وجوہات میں ری اسٹرکچرنگ کے زیادہ اخراجات، اے آئی ریسرچ پر بھاری سرمایہ کاری، درآمدی ٹیرف میں اضافہ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماحولیاتی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد ایمیشن ٹیکس کریڈٹس کی آمدن میں کمی شامل ہیں۔

ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے کانفرنس کال کے آغاز میں کہا کہ وہ بہت، بہت بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ ایک ایسا مستقبل بنایا جا سکے جہاں ہر چیز وافر ہو، ماحول شاندار ہو اور لوگ جو چاہیں حاصل کر سکیں۔

چیف فنانشل آفیسر ویبھَو تنیجا کے مطابق، ٹیسلا کا 2026 کا سرمایہ جاتی بجٹ 20 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوگا، جو پچھلے سال کے 8.5 ارب ڈالر سے دُگنا سے بھی زائد ہے۔

ایلون مسک نے انکشاف کیا کہ ٹیسلا اب ماڈل ایس اور ماڈل ایکس جیسی لگژری گاڑیوں کی پیداوار بتدریج کم کرے گی، جبکہ کیلیفورنیا کے فری مونٹ پلانٹ کو ہیومینوئیڈ روبوٹس بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیسلا نے 2026 کی گاڑیوں کی فروخت کا کوئی ہدف دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ مجموعی طلب پر منحصر ہوگا۔

اگرچہ مسک نے ورلڈ اکنامک فورم (ڈیووس) میں خودکار گاڑیوں کو تقریباً حل شدہ مسئلہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ 2026 کے آخر تک امریکہ میں روبوٹیکسی سروس عام ہو جائے گی، مگر ماہرین ان دعوؤں کو شکوک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

ماضی میں مکمل خودکار ڈرائیونگ سے متعلق مسک کے کئی وعدے پورے نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے تجزیہ کار اب ان کے بیانات کو “نمک مرچ کے ساتھ” لیتے ہیں۔

ٹیسلا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس نے 16 جنوری کو ایلون مسک کی اےآئی کمپنی ایکس اےائی میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے، جو پہلی سہ ماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

ان تمام خبروں کے باوجود، آفٹر آورز ٹریڈنگ میں ٹیسلا کے شیئرز 1.7 فیصد بڑھ گئے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اب بھی مسک کے مستقبل کے وعدوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

پاکستان