قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹی20 میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو شکست دے کر سیریز کا شاندار آغاز کر دیا۔ اگرچہ آسٹریلوی ٹیم اپنے چند بڑے اسٹار کھلاڑیوں کے بغیر میدان میں اتری، تاہم اس کے باوجود یہ ایک مضبوط اور خطرناک ٹیم تھی، جسے ہرانا کسی بھی لحاظ سے آسان نہیں تھا۔
پاکستان نے مجموعی طور پر بہتر اور منظم کھیل پیش کیا، جس کا صلہ ایک اعتماد بڑھانے والی فتح کی صورت میں ملا۔ جیت نہ صرف ٹیم کے مورال کو بلند کرتی ہے بلکہ آنے والے میچز کے لیے حوصلہ بھی دیتی ہے۔
بیٹنگ میں صائم ایوب کا جلوہ
پاکستانی اننگز کی سب سے روشن تصویر نوجوان اوپنر صائم ایوب رہے، جنہوں نے پاور پلے میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بولرز کو دباؤ میں رکھا۔ صائم نے 180 کے قریب اسٹرائیک ریٹ سے 40 رنز بنائے، جن میں دلکش چھکے، چوکے اور ان کا خاص نو لک شاٹ بھی شامل تھا۔
صاحبزادہ فرحان بدقسمتی سے پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد کپتان سلمان آغا نے خود بیٹنگ کے لیے آ کر ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ سلمان آغا نے توقعات سے بڑھ کر کھیل پیش کیا، 27 گیندوں پر 39 رنز بنائے اور چار شاندار چھکے لگائے۔ ان کی اننگز نے پاکستان کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
بابر اور فخر پر سوالیہ نشان
تاہم اچھی شروعات کے باوجود پاکستان مڈل آرڈر میں رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔ بابر اعظم اور فخر زمان دونوں توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ بابر نے 120 کے کم اسٹرائیک ریٹ سے 24 رنز بنائے جبکہ فخر زمان 16 گیندوں پر محض 10 رنز ہی بنا سکے۔ جدید ٹی20 کرکٹ میں اس نوعیت کی بیٹنگ ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
پاکستان 10 اوورز میں 93 رنز تک پہنچ چکا تھا اور یہاں سے 180 یا اس سے زائد اسکور متوقع تھا، مگر پاور ہٹنگ کی کمی کے باعث ٹیم 168 رنز تک محدود رہی۔
پاکستان کے اسپن بولرز نے 169 رنزکےدفاع میں کمال کر دکھایا۔ خاص طور پر ابرار احمد آسٹریلوی بیٹنگ لائن کے لیے معمہ بنے رہے۔ ابرار نے چار اوورز میں صرف 10 رنز دے کر دو قیمتی وکٹیں حاصل کیں، جبکہ آسٹریلوی بلے باز ان کی گیندوں کو سمجھنے میں ناکام نظر آئے۔
صائم ایوب نے آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں ٹریوس ہیڈ اور میتھیو شارٹ شامل تھے۔ شاداب خان اور محمد نواز نے بھی ایک ایک وکٹ حاصل کی اور رنز روکنے میں کردار ادا کیا۔
آسٹریلیا کی مزاحمت، مگر انجام شکست
آسٹریلیا نے اننگز کا آغاز تیز رفتاری سے کیا، مگر ابتدائی وکٹوں کے گرنے کے بعد کوئی بھی بلے باز طویل شراکت قائم نہ کر سکا۔ کیمرون گرین نے 36 رنز کی مزاحمت کی، مگر مجموعی طور پر آسٹریلوی بیٹنگ دباؤ کا شکار رہی اور ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔









