اہم ترین

پاک ایران سرحد پر دہائیوں پرانا راہداری نظام ختم! پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی آمد و رفت کے حوالے سے اہم اور تاریخی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ دہائیوں سے رائج ون ڈاکومنٹ ریجیم راہداری سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 15 مارچ 2026 سے ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد پاک۔ایران سرحدی انتظامات کو بین الاقوامی قوانین اور جدید سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق مزید محفوظ، منظم اور مکمل طور پر دستاویزی بنانا ہے۔

نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کرنے والے تمام افراد کے لیے معتبر پاسپورٹ اور متعلقہ ویزا حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ بغیر پاسپورٹ یا ویزا کسی کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ون ڈاکومنٹ ریجیم کی منسوخی سے غیر قانونی آمد و رفت، اسمگلنگ اور سیکیورٹی خدشات پر قابو پانے میں مدد ملے گی، جبکہ سرحدی نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

اس نئی سرحدی پالیسی کا باضابطہ افتتاح 31 مارچ 2026 کو کیا جائے گا، جس کے بعد مکمل عملدرآمد کا آغاز ہو جائے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاک۔ایران سرحد پر جدید امیگریشن سسٹمز، ریکارڈنگ اور مانیٹرنگ کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ آمد و رفت کا ڈیٹا محفوظ اور شفاف رکھا جا سکے۔

یہ فیصلہ خطے میں سرحدی نظم و نسق کی نئی سمت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے دور رس اثرات پاک۔ایران تعلقات، تجارت اور سیکیورٹی تعاون پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان