صدر مملکت آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر پرکھا یا رد نہیں کیا جانا چاہیے۔
اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں آصف علی زرداری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہم دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور عدم برداشت کے خلاف متحد کھڑے ہیں۔ یہ دن مسلم کمیونٹیز کو درپیش تعصب اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے اور مذہبی تنوع کے احترام اور رواداری کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن کرائسٹ چرچ کے اس المناک واقعے کی بھی یاد دلاتا ہے جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اسلامو فوبیا کی کئی صورتیں ہیں جیسے نفرت انگیز تقریر، امتیازی سلوک اور مذہبی علامات و عبادت گاہوں پر حملے۔ ایسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس بنیادی اصول، کہ قانون کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں، کے بھی منافی ہیں۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ یہ عقیدے، نسل یا پس منظر سے بالا تر ہو کر تمام انسانیت کے احترام کا داعی ہے۔ اسلام کو انتہا پسندی یا تشدد سے جوڑنے کی کوششیں لا علمی کی عکاسی کرتی ہیں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور باہمی مفاہمت کے فروغ کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تمام انسان حقوق کے لحاظ سے آزاد اور برابر پیدا ہوئے ہیں۔ اس اعلامیہ کا آرٹیکل 2 واضح کرتا ہے کہ ہر شخص کسی بھی قسم کی تفریق، بشمول مذہبی، کے بغیر ان تمام حقوق کا حقدار ہے۔ یہ اصول ایک منصفانہ عالمی نظام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے کئی بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کی ہے۔ ہم بین الاقوامی فورمز اور کانفرنسوں میں اسلامو فوبیا کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، لیکن یہ ایک ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ اسے نفرت یا تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مضبوط بنائے اور مذہبی رہنماؤں، ماہرینِ تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے ما بین عملی تعاون کو فروغ دے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ وہ کاروبار چلاتے ہیں، اسپتالوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان معاشروں کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ جب مسلمانوں کے خلاف تعصب بڑھتا ہے، تو یہ ان کے احساس تحفظ اور ذرائع روزگار اور تعلیم کو متاثر کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر پرکھا یا رد نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں، ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ غیر مسلم شہریوں کو سرکاری سہولیات، اسکولوں اور ملازمتوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی حاصل ہو۔ مقامی کونسلوں اور قومی مباحثوں میں ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔ وفاقی کابینہ نے “بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسی” اور “مذہبی رواداری کی حکمتِ عملی” کی منظوری دی ہے۔ پارلیمنٹ نے “نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس ایکٹ 2025” نافذ کیا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کے لیے اب ایک آزاد نیشنل کمیشن برائے اقلیت قائم کیا جا رہا ہے۔
میں دنیا بھر کی حکومتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور مذہبی رہنماؤں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ تعصب کو مسترد کریں اور مکالمے اور قانونی ذرائع کے مطابق مل کر کام کریں۔ مذہبی عقائد کا احترام اور قانون کے تحت مساوی تحفظ کوئی اختیاری اصول نہیں ہیں، بلکہ یہ ذمہ داریاں ہیں۔
پاکستان ان اصولوں کی حمایت میں، اندرون اور بیرونِ ملک، مستقل مزاجی سے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور اپنا کردار ادا کرے گا۔









