ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مختصر دورانیے کی جسمانی ورزش انسانی دماغ میں ایسے برقی سگنلز کو متحرک کر سکتی ہے جو یادداشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دماغ کا حصہ ہپوکیمپس یادداشت کو طویل مدت تک محفوظ بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ ورزش کے بعد اسی حصے میں “رِپلز” نامی تیز رفتار برقی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا، جو نئی معلومات کو دیرپا یادداشت میں تبدیل کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔
برین کمیونی کیشن نامی تحقیقی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق ماہرین نے اپنی تحقیق میں 17 سے 50 سال کی عمر کے 14 افراد کو شامل کیا۔ شرکاء نے 20 منٹ تک سائیکل چلائی، جس کے بعد ان کے دماغی سگنلز کو جدید طریقہ آئی ای ای جی کے ذریعے براہِ راست ریکارڈ کیا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ ورزش کے بعد نہ صرف ہپوکیمپس میں رِپلز کی تعداد بڑھی بلکہ دماغ کے دیگر حصوں کے ساتھ اس کا رابطہ بھی مضبوط ہوا، جو سیکھنے اور یاد رکھنے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رِپلز دراصل دماغ کی جانب سے معلومات کو دہرانے کا عمل ہیں، جس سے یادداشت مستحکم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ جن افراد کی ورزش کے دوران دل کی دھڑکن زیادہ تیز تھی، ان میں یہ سگنلز بھی زیادہ مضبوط دیکھے گئے۔
تحقیق کے مطابق یہ نتائج اس بات کی ابتدائی سائنسی وضاحت فراہم کرتے ہیں کہ ورزش انسانی دماغی کارکردگی اور یادداشت کو کیسے بہتر بناتی ہے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان نتائج کو عام افراد پر مکمل طور پر لاگو کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی، لیکن اس سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ روزمرہ کی مختصر ورزش بھی سیکھنے اور ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔









