اہم ترین

ٹرمپ انتظامیہ بمقابلہ اینتھروپک: اے آئی کمپنی پر پابندی کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمپنی اور حکومت کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں اینتھروپک نے پینٹاگون کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس اقدام کو مکمل طور پر قانونی اور جائز قرار دیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع، یعنی پینٹاگون نے 3 مارچ کو اینتھروپک کو قومی سلامتی کے لیے سپلائی چین خطرہ قرار دیا تھا۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب کمپنی نے اپنے اے آئی سسٹمز، خصوصاً اسسٹنٹ کلاؤڈ سے وہ حفاظتی پابندیاں ہٹانے سے انکار کر دیا جو خودکار ہتھیاروں اور داخلی نگرانی میں استعمال کو روکتی ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اس اقدام کو صدر ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کمپنی کا انکار اظہارِ رائے نہیں بلکہ ایک کاروباری عمل ہے، اس لیے آئین کی پہلی ترمیم کے تحت اسے تحفظ حاصل نہیں۔

دوسری جانب اینتھروپک نے کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کا اقدام غیر قانونی، غیر معمولی اور ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اے آئی کو خودکار ہتھیاروں میں استعمال کرنا محفوظ نہیں، جبکہ داخلی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی دینے کی وہ اصولی طور پر مخالف ہے۔

اس تنازع کے باعث کمپنی کو نہ صرف حکومتی معاہدوں سے محرومی کا سامنا ہے بلکہ اس کی ساکھ اور اربوں ڈالر کے ممکنہ نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس مستقبل میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان اختیارات کی حد کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں ایک طرف قومی سلامتی ہے تو دوسری جانب آزادیٔ اظہار اور کاروباری خودمختاری کا سوال کھڑا ہے۔

پاکستان