اہم ترین

گائے کے پتھری عالمی مارکیٹ میں سونے سے بھی قیمتی

اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ گوشت کی صنعت کا سب سے قیمتی ضمنی پیداوار کون سی ہے تو شاید بہت کم لوگ کہیں کہ یہ گائے کی پتھری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے سخت ٹکڑے سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔

ہزاروں سال سے چینی روایتی طب میں گائے کی پتھریوں کا استعمال کئی سنگین بیماریوں جیسے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ چین میں اب اسٹروک کی شرح امریکا کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، جس کی وجہ سے گائے کی پتھریوں کی مانگ اور قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2025 میں گائے کی پتھری کی قیمت فی اونس 5800 امریکی ڈالر (16 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد)تک پہنچ گئی، جو اس وقت سونے کی قیمت سے دگنی تھی۔ قدرتی پتھریاں نایاب ہونے کی وجہ سے، برازیل، آسٹریلیا اور امریکا کے ٹیکساس میں اس کی طلب نے غیر قانونی مارکیٹ اور چوری کے واقعات میں اضافہ کر دیا ہے۔

چین میں انسانی پتھریوں کی بھی مانگ بڑھ رہی ہے، جہاں ایک پتھری کی قیمت 1270 امریکی ڈالر (ساڑھے 3 لاکھ روپے) تک پہنچ گئی ہے۔ سائز اور خصوصیات کے لحاظ سے قیمتیں مختلف ہیں یعنی جتنی بڑی پتھری ہوگی اتنی ہی زیادہ قیمت ہوگی۔

ماہرین نے لیبارٹری میں تیار شدہ گائے کی پتھریاں بھی ایجاد کی ہیں جو کچھ حد تک قدرتی پتھریوں کے فوائد دیتی ہیں اور مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مددگار ہیں، مگر قدرتی پتھریاں اب بھی معیاری سمجھی جاتی ہیں۔

پاکستان