اہم ترین

امریکا بمقابلہ چین: خلا میں نئی سپر پاور جنگ

خلا کی نئی عالمی دوڑ میں چین تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے امریکا کی برتری چیلنج کر رہا ہے، جہاں 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے اور مستقل اڈا قائم کرنے کا ہدف سامنے آ گیا ہے۔

چینی خلائی ادارہ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) گزشتہ تین دہائیوں سے اپنے خلائی پروگرام کو مسلسل وسعت دے رہا ہے، جس کے تحت اب تک تقریباً 15 انسانی مشنز مکمل کیے جا چکے ہیں۔

چین نے 2030 تک خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کا اعلان کررکھجا ہے۔ اس لسلے میں جدید ترین خلائی جہاز مینگژاؤ تیار کیا جا رہا ہے۔ طاقتور راکٹ لانگ مارچ 10 بھی اسی مشن کا حصہ ہوگا۔

چین اس سے پہلے چاند پر کئی روبوٹک مشنز بھیج کر وہاں سے مٹی کے نمونے بھی واپس لا چکا ہے۔

امریکا کی جانب سے انٹر نینشل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) تک رسائی محدود ہونے کے بعد چین نے اپنا خلائی اسٹیشن تیانگ گونگ اسپیس اسٹیشن قائم کیا۔ جہاں 2021 میں پہلا عملہ پہنچا ۔ اس وقت بھی چینی خلا باز وہاں موجود ہیں۔ یہ اسٹیشن چین کو خلا میں طویل قیام اور تحقیق کا تجربہ فراہم کر رہا ہے۔

چین اور روس نے 2035 تک چاند پر بین الاقوامی تحقیقی مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جو چاند کے جنوبی قطب کے قریب بنایا جائے گا۔ جہاں برف (پانی) کی موجودگی کے امکانات ہیں۔

اسی تحقیقی مرکز میں چاند کی مٹی سے 3 ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تعمیرات کی جائیں گی۔ سائنسی تحقیق اور وسائل کے حصول پر کام ہوگا۔

اگرچہ چین اسے براہِ راست مقابلہ نہیں کہتا، مگر ناسا کا آرٹیمس پروگرام پہلے ہی چاند پر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چاند کے جنوبی قطب پر محدود جگہ کی وجہ سے اصل مقابلہ ناگزیر ہے۔ فی الحال انسانی خلائی پروازوں میں امریکہ کو برتری حاصل ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چین 2030 کے بعد اس خلا کو کم کر سکتا ہے۔

چین کا منصوبہ ہے کہ 2040 کے بعد چاند پر قائم تحقیقی مرکز کو مریخ مشن کیلئے استعمال کیا جائے۔

پاکستان