اہم ترین

جنگی ساز و سامان کے ساتھ پروپیگنڈا بھی دفاع کا اہم ہتھیار ہے: شان

پاکستانی فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار شان نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ جنگ کے دوران پروپیگنڈا انسانی دماغ پر اثر ڈالنے والا ایک طاقتور ہتھیار ہے، لیکن ہماری سرحدوں کے محافظ اور دانشور اب بھی صرف ہتھیار اور جنگی ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں۔

بی بی سی کو انٹرویو میں شان نے فلمی صنعت میں 12 سال بعد واپسی کے حوالے سے بتایا کہ پنجاب میں فلمیں بننا تقریباً بند ہو گئی ہیں، اس لیے انہوں نے خود کو کچھ عرصے کا وقفہ دینا ضروری سمجھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ دیگر فلمی اداکاروں کی طرح ڈراموں میں کام نہیں کرتے، اسی وجہ سے عوام کی نظر میں کم نظر آتے ہیں۔

اداکار نے کہا کہ کسی بھی فلم میں اداکار کی دلچسپی اسکرپٹ میں ہونی چاہیے، اور لاہور میں فلمی کلچر ختم ہو جانے کے بعد مصنف، ہدایتکار اور پروڈیوسرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اداکار کے ساتھ کس طرح کام کریں۔

عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلم بلھا کے بارے میں شان نے کہا کہ یہ فلم پنجابی فلم گنڈاسے سے بڑی ہے، اور کامیڈی کے ساتھ ساتھ ایکشن کی اپنی الگ زبان ہے، جو اسے کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

شان نے پرانی فلموں کے مناظر پر بنے میمز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور کا اپنا مزاج اور معیار ہوتا ہے، اس لیے پرانی فلموں کو آج کے پیمانے پر پرکھنا درست نہیں۔

بھارتی فلموں میں کام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دشمن ممالک پروپیگنڈا کے ذریعے انسانی ذہن پر اثر ڈالنے میں ماہر ہیں، اور یہ عمل وہ طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔ شان نے کہا کہ پاکستان میں دفاعی شعبہ صرف جنگی ساز و سامان پر انحصار کرتا ہے، حالانکہ ذہنی جنگ پر مبنی فلمیں بھی انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں تخلیقی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں، اس لیے پاکستان کے دفاعی نظام میں بھی ایسے شعبے کی ضرورت ہے جو فلموں اور دیگر مواد کے ذریعے ملک کی اصل کہانی دنیا کے سامنے پیش کرے۔

مصنوعی ذہانت کے فلمی استعمال کے بارے میں شان کا کہنا تھا کہ یہ جدت کی نئی راہیں کھولتی ہے، اور مستقبل میں اس ٹیکنالوجی پر مکمل فلمیں بننی چاہییں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صحیح استعمال سے ایک نئی دنیا ہمارے سامنے آ سکتی ہے، لیکن موجودہ حکومت کی پالیسی اس ٹیکنالوجی کو محدود کرنے تک محدود ہے، جبکہ ترقی کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی۔

پاکستان