خلائی تحقیقی سے متعلق امریکا کے ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن کے خلا باز چاند کی جانب اپنے تاریخی سفر پر گامزن ہیں، جبکہ ادارے نے خلائی جہاز اورین سے لی گئی زمین کی ابتدائی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں، جن میں نیلے سمندر اور بادلوں کے خوبصورت مناظر نمایاں ہیں۔
جمعہ کے روز جاری ہونے والی ان تصاویر کو مشن کے کمانڈر ریڈ وائز مین نے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا۔ یہ تصاویر اس وقت لی گئیں جب خلائی جہاز چاند کی طرف اپنے سفر پر رواں دواں تھا۔
ابتدائی مراحل میں دھماکہ خیز لانچ اور طاقتور انجن فائرنگ کے بعد، جس نے خلا بازوں کو چاند کے گرد گردش کے راستے پر ڈال دیا، عملے کو کچھ مہلت ملی تاکہ وہ سانس بحال کر سکیں۔ اس دوران وہ مختلف تکنیکی جانچ اور تجربات میں مصروف رہے۔
کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے ناقابلِ یقین ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے یہاں بہت اچھا لگ رہا ہے، مناظر حیرت انگیز ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ زیرو گریویٹی میں تیرنا ایک بچے جیسا خوشگوار احساس دیتا ہے۔
اس مشن میں کرسٹینا کوچ ، وکٹر گلوور اور کمانڈر ریڈ وائز مین بھی شامل ہیں۔ یہ چاروں خلا باز آئندہ ہفتے کے آغاز میں چاند کے گرد چکر لگائیں گے، جو کہ نصف صدی سے زیادہ عرصے بعد ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔
ناسا حکام کے مطابق تمام نظام درست طریقے سے کام کر رہے ہیں اور خلا بازوں کا حوصلہ بلند ہے۔ وہ اپنے اہلِ خانہ سے بھی رابطے میں ہیں۔
مشن کا اگلا اہم مرحلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب متوقع ہے، جب خلائی جہاز “چاند کے دائرہ اثر” میں داخل ہوگا، جہاں چاند کی کششِ ثقل زمین سے زیادہ اثر انداز ہوگی۔
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو یہ خلا باز زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک جانے والے انسانوں کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔
یہ مشن مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو آگے چل کر مزید خلائی تحقیق کی راہ ہموار کرے گا۔










