ناسا کی جانب سےچاند کی جانب بھیجے گئے خلائی مشن آرٹیمس II کےخلا بازوں نے زمین پر واپسی کے سفر کے دوران واپسی کے دوران بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود اپنے ساتھیوں سے براہِ راست گفتگو کی۔
اے ایف پی کے مطابق آرٹیمس II چاند کا کامیاب چکر لگانے کے بعد زمین پر واپسی کی راہ میں ہے۔ اس دوران ان خلا بازوں کا خلا ہی میں موجود اپنے دیگر خلا بازوں سے براہ راست رابطہ ہوا اور خلا میں اپنے گزارے وقت کے بارے میں گفتگو کی۔
آرٹیمس مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے گفتگو کے آغاز پر کہا کہ ہم اس لمحے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ جبکہ کینیڈین خلا باز جیریمی پینسی ننے اسے ایک دلچسپ تجربہ قرار دیا کہ دونوں ٹیمیں ایک ہی وقت میں خلا میں موجود ہیں۔
یہ رابطہ اس اہم دن کے بعد ہوا جب آرٹیمس ٹیم نے کئی سنگ میل عبور کیے، جن میں 50 سال سے زائد عرصے بعد چاند کے گرد پہلا فلائی بائی، خلائی سفر کا نیا فاصلہ ریکارڈ، اور چاند کی سطح کے چھ گھنٹے سے زائد مشاہدات شامل تھے۔
دوسری جانب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں نے اس منفرد تجربے کے بارے میں سوالات کیے۔ اسٹیشن کی کمانڈر جیسیکا میئر نے کہا کہ خلا سے زمین کو دیکھنا ہر خلا باز کے لیے ایک حیران کن تجربہ ہوتا ہے، اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ چاند کے قریب سے یہ منظر کیسا محسوس ہوتا ہے۔
آرٹیمس کی خلا باز کرسٹیناکوچ نے بتایا کہ چاند کے قریب سے زمین کو دیکھنا ایک بالکل مختلف اور گہرا تجربہ ہے، جہاں اردگرد پھیلی تاریکی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زمین پر موجود تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
خلا بازوں نے خلا میں زندگی کے عملی اور دلچسپ پہلوؤں پر بھی گفتگو کی، جیسے کھانا کھانے کے طریقے، پانی کے ساتھ تجربات اور بغیر کششِ ثقل کے حرکت کرنا یہ تمام مہارتیں انہوں نے پہلے آئی ایس ایس پر سیکھیں۔
گفتگو کے دوران ایک دلچسپ واقعہ بھی شیئر کیا گیا، جب چاند کی جانب روانگی کے وقت جیریمی پینسین نے زمین کو تیزی سے قریب آتے دیکھ کر مذاق میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے ہم سیدھے اس سے ٹکرا جائیں گے! ۔
چاند کے گرد کامیاب سفر کے بعد آرٹیمس II کے خلا باز اب زمین کی جانب واپسی کے سفر پر ہیں اور ان کی واپسی جمعے کے روز متوقع ہے۔
ناسا کی جانب سےچاند کی جانب بھیجے گئے خلائی مشن آرٹیمس II کےخلا بازوں نے زمین پر واپسی کے سفر کے دوران واپسی کے دوران بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود اپنے ساتھیوں سے براہِ راست گفتگو کی۔
اے ایف پی کے مطابق آرٹیمس II چاند کا کامیاب چکر لگانے کے بعد زمین پر واپسی کی راہ میں ہے۔ اس دوران ان خلا بازوں کا خلا ہی میں موجود اپنے دیگر خلا بازوں سے براہ راست رابطہ ہوا اور خلا میں اپنے گزارے وقت کے بارے میں گفتگو کی۔
آرٹیمس مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے گفتگو کے آغاز پر کہا کہ ہم اس لمحے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ جبکہ کینیڈین خلا باز جیریمی پینسی ننے اسے ایک دلچسپ تجربہ قرار دیا کہ دونوں ٹیمیں ایک ہی وقت میں خلا میں موجود ہیں۔
یہ رابطہ اس اہم دن کے بعد ہوا جب آرٹیمس ٹیم نے کئی سنگ میل عبور کیے، جن میں 50 سال سے زائد عرصے بعد چاند کے گرد پہلا فلائی بائی، خلائی سفر کا نیا فاصلہ ریکارڈ، اور چاند کی سطح کے چھ گھنٹے سے زائد مشاہدات شامل تھے۔
دوسری جانب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں نے اس منفرد تجربے کے بارے میں سوالات کیے۔ اسٹیشن کی کمانڈر جیسیکا میئر نے کہا کہ خلا سے زمین کو دیکھنا ہر خلا باز کے لیے ایک حیران کن تجربہ ہوتا ہے، اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ چاند کے قریب سے یہ منظر کیسا محسوس ہوتا ہے۔
آرٹیمس کی خلا باز کرسٹیناکوچ نے بتایا کہ چاند کے قریب سے زمین کو دیکھنا ایک بالکل مختلف اور گہرا تجربہ ہے، جہاں اردگرد پھیلی تاریکی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زمین پر موجود تمام انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
خلا بازوں نے خلا میں زندگی کے عملی اور دلچسپ پہلوؤں پر بھی گفتگو کی، جیسے کھانا کھانے کے طریقے، پانی کے ساتھ تجربات اور بغیر کششِ ثقل کے حرکت کرنا یہ تمام مہارتیں انہوں نے پہلے آئی ایس ایس پر سیکھیں۔
گفتگو کے دوران ایک دلچسپ واقعہ بھی شیئر کیا گیا، جب چاند کی جانب روانگی کے وقت جیریمی پینسین نے زمین کو تیزی سے قریب آتے دیکھ کر مذاق میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے ہم سیدھے اس سے ٹکرا جائیں گے! ۔
چاند کے گرد کامیاب سفر کے بعد آرٹیمس II کے خلا باز اب زمین کی جانب واپسی کے سفر پر ہیں اور ان کی واپسی جمعے کے روز متوقع ہے۔










