اہم ترین

خبردار! گوگل پلے اسٹور پر موجود درجنوں ایپس آپ کا سب کچھ چرا سکتی ہیں

گوگل پلے اسٹور پر موجود تقریباً 50 ایپس میں خطرناک نو وائس مالویئر کا انکشاف ہوا ہے۔ ان ایپس کو مجموعی طور پر 23 لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا، جس کے باعث لاکھوں موبائل ڈیوائسز اس خطرے کی زد میں آ چکی ہیں۔

ٹیک کرنچ کے مطابق خطرناک مالویئر سائبر سیکیورٹی کمپنی مک ایفی کے ماہرین نے گوگل پلے اسٹور پر درجنوں ایسی ایپس کا سراغ لگایا ہے جو سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاکر موبائل ڈیٹا کو انتہائی خفیہ طریقے سے اپنے مرکزی سرور میں بھجواتے ہیں۔

مک ایفی کی رپورٹ کے بعد گوگل نے مبینہ طور پر متاثرہ ایپس کو پلے اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔ تاہم اگر یہ ایپس کسی صارف کے فون میں پہلے سے موجود ہیں تو خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق نو وائس مالویئر نہایت چالاکی سے کام کرتا ہے۔ یہ انسٹال ہونے کے بعد فوری طور پر فعال نہیں ہوتا۔ کچھ وقت تک سلیپ موڈ میں رہتا ہے۔ ایپ کھولنے پر پرانے سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ روٹ ایکسس حاصل کر کے پورے فون پر کنٹرول لینے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک بار سسٹم میں داخل ہونے کے بعد یہڈیوائس کی معلومات (ہارڈویئر، اینڈرائیڈ ورژن، ایپس) اکٹھی کرتا ہے اور ہیکرز کے سرور سے کنیکٹ ہو جاتا ہے۔ یہ ہیکرز کے سرور سے مسلسل نئے کمانڈز لے کر مزید نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ مالویئر نہ صرف ڈیٹا چوری کر سکتا ہے بلکہ واٹس ایپ اور بینکنگ ایپس کی معلومات بھی چرا سکتا ہے۔ اس کےعلاوہ یہ مال وئیر خود سے ایپس انسٹال یا ڈیلیٹ کر سکتا ہے۔ فون کو ری اسٹارٹ کر سکتا ہے۔ سسٹم میں ایسی تبدیلیاں کر سکتا ہے جنہیں ختم کرنا مشکل ہو۔

سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ سسٹم پارٹیشن میں خود کو اس طرح انسٹال کر سکتا ہے کہ فیکٹری ری سیٹ کے بعد بھی مکمل طور پر ختم نہ ہو۔

گوگل کے مطابق وہ ڈیوائسز جن میں مئی 2021 یا اس کے بعد کے سیکیورٹی اپڈیٹس موجود ہیں، اس خطرے سے کافی حد تک محفوظ ہیں۔

ماہرین کہتےہیں کہ صارفین کو اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے خود بھی محتاط رہنا ضروری ہے۔اینڈرائیڈ صارفین ہمیشہ فون کو اپڈیٹ رکھیں، صرف معتبر ایپس ہی ڈاؤن لوڈ کریں، اگر بیٹری تیزی سے ختم ہورہی ہو ، فون کا بار بار ری اسٹارٹ ہو یا ایپس خود بخود انسٹال یا ڈیلیٹ ہو تو فوری اقدامات اٹھائیں۔

پاکستان