اہم ترین

میٹا نے جدید ترین اے آئی ماڈل “میوس اسپارک” متعارف کرا دیا

میٹانے بدھ کے روز اپنے نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ماڈل میوس اسپارک کا اعلان کر دیا ہے، جسے کمپنی نے پہلے سے زیادہ تیز اور ذہین قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت کمپنی کے سپر انٹیلی جنس لیبس یونٹ میں بڑی تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی “سپر انٹیلیجنس” کے حصول کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہوا ہے۔ میٹا کے مطابق، گزشتہ نو ماہ میں اس کے اے آئی سسٹم کو مکمل طور پر نئے سرے سے تیار کیا گیا۔

میوس اسپارک، ایک سال قبل متعارف کرائے گئے للاما 4 کی جگہ لے گا اور میٹا کی مختلف سروسز جیسے فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، میسینجر، اے آئی ایپ اور اسمارٹ گلاسز کو طاقت فراہم کرے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل خاص طور پر “چھوٹا اور تیز” ڈیزائن کیا گیا ہے اور سائنس، ریاضی اور صحت جیسے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فی الحال میوس اسپارک صرف امریکا میں دستیاب ہے، تاہم یہ “میوز” سیریز کا پہلا ماڈل ہے اور اس کی اگلی نسل پہلے ہی تیار کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ للاما 4 عالمی اے آئی مقابلے میں پیچھے رہ گیا تھا، جہاں چین، فرانس اور امریکہ کی دیگر کمپنیوں نے تیزی سے جدید ماڈلز متعارف کروائے۔ اسی پس منظر میں مارک زکربرگ نے کمپنی کی اے آئی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کیں، جن میں سابق ریسرچ ہیڈ یان لی کن کی رخصتی بھی شامل ہے۔

میٹا نے اے آئی کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بھرتیاں بھی کیں، جن میں الیگزینڈر وانگ کو سپر انٹیلی جنس لیبس کا سربراہ بنایا گیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی “ذاتی سپر انٹیلیجنس” تیار کر رہی ہے جو نہ صرف سوالوں کے جواب دے بلکہ صارف کی زندگی، تعلقات اور سیاق و سباق کو بھی بہتر انداز میں سمجھے۔

پاکستان