امریکی خلائی ادارے ناسا کا تاریخی مشن آرٹیمس 2 کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا، مشن کے چاروں خلا باز بحفاظت سان ڈیاگو کے قریب بحرالکاہل میں اتر گئے۔
اے ایف پی کے مطابق مشن کمانڈر دیڈ وائزمین نے لینڈنگ کے بتایا کہ تمام خلا باز مستحکم اور بہترین حالت میں ہیں۔ ان کے ساتھ کرسٹینا کوچ، وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسین بھی شامل تھے۔
خلائی جہاز نے زمین کے ماحول میں داخل ہوتے وقت آواز کی رفتار سے 30 گنا زیادہ رفتار حاصل کی اور شدید درجہ حرارت کا سامنا کیا، تاہم اس کا ہیٹ شیلڈ کامیابی سے کام کرتا رہا۔
یہ مشن تقریباً 10 دن پر مشتمل تھا اور اس کا آغاز یکم اپریل کو فلوریڈا سے ہوا۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے بعد چاند کے گرد انسانوں کا پہلا سفر تھا اور ناسا کے چاند پر مستقل موجودگی کے منصوبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
اس دوران خلا بازوں نے زمین سے اب تک کا سب سے زیادہ فاصلہ (252756 میل) طے کیا، ہزاروں تصاویر لیں، چاند پر شہابیوں کے ٹکراؤ اور سورج گرہن کا مشاہدہ کیا اور بنی نوع انسان کی تاریخ میں کئی کائناتی رموز براہ راست دیکھنے کے تاریخی اعزاز حاصل کئے۔
یہ مشن کئی حوالوں سے منفرد رہا کیونکہ وکٹر گلوور چاند کے گرد جانے والے پہلے سیاہ فام خلا باز بنے۔ کرسٹینا کوچ چاند کے گرد چکر لگانے والی پہلی پہلی خاتون خلا باز بنیں جب کہ جیریمی ہینسین پہلے غیر امریکی خلا باز تھے۔
اس سے قبل آرٹیمس 1 میں ہیٹ شیلڈ کے مسائل سامنے آئے تھے، جس کے باعث اس بار واپسی کے راستے میں تبدیلی کی گئی۔ نئی حکمت عملی کامیاب رہی اور خلائی جہاز محفوظ انداز میں زمین پر واپس آگیا۔
ناسا کے مطابق یہ کامیابی چاند پر 2028 تک انسانوں کو اتارنے اور وہاں مستقل بیس قائم کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کامیابی کو “شاندار” قرار دیتے ہوئے مستقبل میں مریخ مشن کا عندیہ بھی دیا۔











