اہم ترین

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست امن مذاکرات

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے اہم مذاکرات جاری ہیں، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود آمنے سامنے بیٹھ گئے ہیں۔

یہ بات چیت ایک نازک جنگ بندی کے چند روز بعد شروع ہوئی ہے، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ ابتدائی طور پر ان مذاکرات کو بالواسطہ رکھنے کا منصوبہ تھا، تاہم اب یہ براہِ راست مذاکرات میں تبدیل ہو چکے ہیں، جن میں پاکستانی حکام بھی بطور ثالث شریک ہیں۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ اس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باق قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔

مذاکرات سے قبل دونوں فریقین نے علیحدہ علیحدہ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

اہم نکات میں لبنان میں جنگ بندی، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کرنا ضروری ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ابتدائی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی اور ایرانی اثاثوں کے حوالے سے تاہم ابھی حتمی نتیجہ سامنے آنا باقی ہے۔

محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران ایک حقیقی معاہدے کے لیے تیار ہے، مگر ماضی کے تجربات کے باعث اسے امریکا پر مکمل اعتماد نہیں۔

دوسری جانب جےڈی وینس نے مثبت نتائج کی امید ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے سنجیدگی نہ دکھائی تو مذاکرات مشکل ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس جنگ کے باعث خلیج میں اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ لبنان میں حزبالہہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے۔

اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات خطے اور دنیا کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جہاں معمولی پیش رفت بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان