اہم ترین

ایران سے مذاکرات بےنتیجہ ختم ہوگئے: امریکی نائب صدرجے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہونے کا اعلان کیاہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ان کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل رابطہ رہا۔ ان کے بقول گزشتہ 21 گھنٹوں میں ممکنہ طور پر ایک درجن مرتبہ گفتگو ہوئی، جبکہ وہ قومی سلامتی ٹیم کے دیگر ارکان سے بھی مسلسل مشاورت کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات میں ایک واضح اور سادہ تجویز پیش کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا ایک قابلِ عمل طریقہ کار طے کرنا تھا۔ تاہم ان کے مطابق ایران نے امریکی شرائط کو قبول نہیں کیا۔

جے ڈی وینس نے وضاحت کی کہ امریکہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران اس بات کی واضح ضمانت دے کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ اس مقصد کے لیے درکار ٹیکنالوجی اور وسائل بھی حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یہی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو کافی حد تک محدود کیا جا چکا ہے، لیکن اب تک ایسی کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے سے مکمل طور پر گریز کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی نائب صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں پر بھی بات چیت ہوئی، تاہم اس معاملے پر بھی کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق امریکہ نے لچک کا مظاہرہ کیا اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے، مگر اس کے باوجود پیشرفت ممکن نہ ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 16 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ان کے بقول امریکہ نے اپنی “ریڈ لائنز” واضح کر دی تھیں، لیکن ایران نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ معاہدہ نہ ہونا امریکہ کے لیے کوئی بڑی ناکامی نہیں، تاہم اس کے اثرات ایران کے لیے زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے انعقاد اور سہولت کاری کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت خصوصاً (فیلڈ مارشل جنرل)عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔

تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں جاری عارضی جنگ بندی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان