اہم ترین

سعودی عرب کا امریکا پرایران سے دوبارہ مذاکرات دباؤ: امریکی اخبار کا دعویٰ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عائد ناکہ بندی ختم کرے اور ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

امریکی اخبار بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک خطے میں مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے سرگرم سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔

سعودی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو ایران جوابی اقدامات کے طور پر نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ اہم بحری گزرگاہ باب المندب کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستیں اس بات سے پریشان ہیں کہ جاری تنازع ان کی معیشتوں کی بنیاد یعنی تیل کی ترسیل کے اہم راستوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ان ممالک کی خواہش ہے کہ کسی بھی صورت میں توانائی کی عالمی سپلائی میں مزید رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے باوجود پس پردہ رابطے جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا، جو پیر کی شام نافذ العمل ہو گیا۔ یہ پیش رفت امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی، تاہم اب صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فوری طور پر سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

پاکستان