اہم ترین

امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کی قراردادیں مسترد

امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلک پارٹی کی مخالفت سے اسرائیل کو 45 کروڑ ڈالر کے اسلحے کی فروخت روکنے کی قراردادیں مسترد ہوگئیں۔

امریکی سینیٹ نے اسرائیل کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکنے کے لیے پیش کی گئی دو اہم قراردادیں کثرتِ رائے سے مسترد کر دی ہیں۔ ان قراردادوں کی ناکامی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت، ریپبلکن پارٹی کے سینیٹرز نے کلیدی کردار ادا کیا۔

اگرچہ یہ قراردادیں منظور نہ ہو سکیں، لیکن سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین کی ایک بڑی تعداد نے ان کے حق میں ووٹ دیا، جو غزہ، لبنان اور ایران میں اسرائیلی حملوں کے باعث شہری ہلاکتوں پر بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اس معاملے پر واضح تقسیم نظر آئی، جہاں کئی اراکین اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے حامی ہیں۔

سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے پیش کی گئی ان قراردادوں کا مقصد اسرائیل کو فوجی امداد کی فراہمی روکنا تھا۔

پہلی قرارداد کا مقصد 29 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے کیٹرپلر بلڈوزرز کی فروخت روکنا تھا، جسے 59 کے مقابلے میں 40 ووٹوں سے مسترد کیا گیا۔

دوسری قرارداد کے ذریعے 15 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فروخت روکنے کی تجویز تھی، جسے 63 کے مقابلے میں 36 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر برنی سینڈرز نے دلیل دی کہ یہ اسلحہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ اور لبنان میں شہریوں کے گھر گرانے اور ہلاکتوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، اسلحے کی فروخت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ کا اسٹریٹجک اتحادی ہے اور اسے اپنے دفاع کے لیے فوجی ساز و سامان کی فراہمی ضروری ہے۔

اگرچہ اسرائیل کی دہائیوں پر محیط دو جماعتی حمایت برقرار ہے، لیکن حالیہ ووٹنگ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکی ایوانوں میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید اور اسلحہ فروخت محدود کرنے کی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پہلے ہی کانگریسی جائزے کو نظر انداز کر کے اسلحہ منتقلی کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

پاکستان