چترال کی کیلاش برادری کی شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور قانونی تحفظ سے متعلق نئے قانون پر مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مسودہ قانون کو جلد منظور کرایا جائے گا تاکہ کیلاش برادری کی شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
مسودے کے مطابق کیلاش قبیلے میں شادی اسی صورت میں معتبر ہوگی جب دونوں فریقین کی باہمی رضامندی شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے، ذہنی صحت کی شرط اور ممنوعہ رشتوں سے اجتناب جیسی اہم شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
قانونی مسودے میں کیلاش برادری کی روایتی شادی رسومات جیسے خلتباری اور مُرّات کو بھی قانونی حیثیت دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ ان کی ثقافتی روایات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں، ہر شادی کی رجسٹریشن مقامی رجسٹرار کے پاس لازمی قرار دی گئی ہے اور اس کا ریکارڈ سرکاری دفاتر میں محفوظ رکھا جائے گا۔
مسودے میں طلاق، خلع، علیحدگی اور نکاح کے خاتمے سے متعلق واضح شرائط بھی شامل ہیں، جبکہ بچوں کی کفالت، وراثت اور جائیداد کے حقوق سے متعلق شقیں بھی متعین کی گئی ہیں۔
دستاویز کے مطابق شوہر کی وفات کے بعد جائیداد کے حقوق روایتی نظام کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
قانون کی خلاف ورزی، جھوٹی معلومات فراہم کرنے یا رجسٹریشن کے اصولوں کی خلاف ورزی پر جرمانے اور قید کی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔
یہ مجوزہ قانون کیلاش برادری کے خاندانی نظام کو قانونی تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔










