میدانِ عرفات میں حج کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام مسجد نبوی ﷺ شیخ عبدالرحمٰن الحذیفی نے کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، لہٰذا اللّٰہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔ انہوں نے تاکید کی کہ کسی کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرایا جائے اور رب کے سوا کسی غیر کی عبادت مت کی جائے۔ ایمان والوں کے سامنے جب اللّٰہ کی آیات پیش کی جائیں تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔
خطبہ حج کے دوران انہوں نے توحید کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ توحید پر عمل درآمد اہل ایمان کا خاصا ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی بھی توحید ہی ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں، جبکہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
امام مسجد نبوی ﷺ نے مسلمانوں کو اخلاقی و سماجی برائیوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں۔ بدعت اور غیبت سے دور رہیں اور ہر مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، کیونکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کا راستہ اپنایا، ان سے اللّٰہ کی نعمتیں چھین لی گئیں؛ اللّٰہ اور بندے کا تعلق ہی نجات کا اصل ذریعہ ہے، اس لیے اے ایمان والو! اپنے رب کے ساتھ جڑے رہو۔
خطبے میں حجاج کرام کو نصیحت کی گئی کہ وہ حج کے دوران کسی بھی قسم کے لڑائی جھگڑے سے مکمل اجتناب کریں اور مناسکِ حج کو بہترین انداز میں ادا کریں۔ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا، اللّٰہ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں اور اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جنت کی نوید سنائی گئی ہے، اس لیے آج کے اہم ترین دن کثرت کے ساتھ دعائیں کی جائیں اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کیا جائے جس سے مسلمانوں کی وحدت کو نقصان پہنچے۔
خطبہ حج کے اختتام پر امام عبدالرحمٰن الحذیفی نے امت مسلمہ کے لیے رقت آمیز دعا فرمائی۔ انہوں نے دعا کی کہ “یا اللّٰہ! مسلمانوں کے حالات پر رحم فرما، ہمارے گناہ معاف کر دے، مسلمانوں کے حالات کو بہتر کر دے، ہمارے اعمال قبول فرما اور مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما۔”


