کیا آپ کا فون چوری چھپے باتیں سن رہا ہے؟ ہلاکت خیز سچ سامنے آ گیا

موجودہ دور میں اسمارٹ فون محض کال کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ پڑھائی، آن لائن کام، شاپنگ اور سوشل میڈیا کے استعمال کے باعث انسانی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس چھوٹی سی ڈیوائس میں سمٹ چکا ہے۔ تاہم، اکثر صارفین کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کا فون ان کی نجی گفتگو بھی سن رہا ہے۔

جب آپ کسی دوست سے کسی خاص جوتے یا موبائل فون کے بارے میں بات کرتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد اسی چیز کا اشتہار آپ کی اسکرین پر نمودار ہو جاتا ہے، تو شک ہونا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب صارفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فون کا مائیکروفون کب فعال ہوتا ہے اور ڈیٹا ٹریکنگ کا یہ عمل کیسے کام کرتا ہے۔

ماہرینِ کے مطابق اسمارٹ فون کا مائیکروفون ہر وقت آپ کی باتیں ریکارڈ نہیں کرتا، لیکن مختلف ایپلی کیشنز انسٹالیشن کے وقت مائیکروفون کی اجازت مانگتی ہیں۔ جب صارفین بغیر سوچے سمجھے یہ اجازت دے دیتے ہیں، تو یہ ایپس ضرورت پڑنے پر مائیکروفون استعمال کر سکتی ہیں۔

عام طور پر وائس سرچ، وائس ٹائپنگ یا ویڈیو ریکارڈنگ کے وقت مائیکروفون فعال ہوتا ہے۔ چونکہ کچھ ایپس پسِ منظر میں بھی کام کرتی رہتی ہیں، اس لیے صارفین کو لگتا ہے کہ فون مسلسل ان کی باتیں سن رہا ہے۔ اگرچہ بڑی ٹیک کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ بغیر اجازت نجی گفتگو ریکارڈ نہیں کرتیں، لیکن صارفین کی پسند اور سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے ڈیٹا ضرور اکٹھا کیا جاتا ہے۔

عام تاثر کے برعکس، گفتگو کے مطابق اشتہارات دیکھنے کی اصل وجہ مائیکروفون سے زیادہ صارفین کی آن لائن سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آپ انٹرنیٹ پر کیا سرچ کرتے ہیں، کون سی ویڈیوز دیکھتے ہیں اور کس پوسٹ پر زیادہ وقت گزارتے ہیں، یہ تمام ڈیٹا کمپنیوں تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اےآئی) اور الگورِتھم صارفین کے اس رویے کا تجزیہ کر کے ان کی پسند کے مطابق اشتہارات دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات صارف کسی چیز کے بارے میں انٹرنیٹ پر پہلے ہی دیکھ چکا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ فون نے اس کی بات سن لی ہے۔

ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اسمارٹ فون کے بغیر زندگی ممکن نہیں، لیکن احتیاط برت کر پرائیویسی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے فون کی سیٹنگز کو باقاعدگی سے چیک کریں اور جن ایپس کو مائیکروفون، کیمرہ یا لوکیشن کی ضرورت نہیں، ان کی پرمیشن فوراً بند کر دیں۔ اس کے علاوہ بیک گراؤنڈ میں چلنے والی ایپس پر نظر رکھیں، مضبوط پاس ورڈز کا استعمال کریں اور کسی بھی غیر تصدیق شدہ یا انجان ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔ جتنا صارف اپنے ڈیٹا کی سیکیورٹی کو سمجھے گا، اتنا ہی وہ آن لائن دنیا میں محفوظ رہے گا۔