رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے بعد حج 1447 ہجری بمطابق 2026 اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جبکہ یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ کو دنیا بھر سے آئے لاکھوں حجاج کرام نے منیٰ میں جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو سات کنکریاں مارنے کی سعادت حاصل کی۔
مقررہ شیڈول کے تحت رمی کا سلسلہ دن بھر اور رات گئے تک جاری رہا۔ حج تمتع اور حج قران ادا کرنے والے حجاج کے لیے ایامِ نحر یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحجہ میں قربانی واجب ہے، جس کے بعد حجاج حلق یا قصر کرا کر احرام کی محدود پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب حج افراد ادا کرنے والے حجاج پر قربانی لازم نہیں، اس لیے وہ رمی کے فوراً بعد حلق یا قصر کروا کر احرام کھول سکتے ہیں۔
سعودی حکومت کے ’’الاضاحی‘‘ پروگرام کے تحت حجاج کو ان کی قربانی کے مقررہ وقت سے آگاہ کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں حجاج نے قربانی اور حلق کے بعد طوافِ افاضہ ادا کرکے احرام مکمل طور پر کھول دیا۔
حجاج کرام آج پورا دن منیٰ میں قیام کریں گے اور عبادات میں مشغول رہیں گے، جبکہ 11 ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو سات، سات کنکریاں ماری جائیں گی۔ مزدلفہ سے حجاج کی منیٰ آمد گزشتہ شب ہی شروع ہو گئی تھی اور اس دوران انتظامیہ نے نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔
جمرات پل پر سکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔ حجاج کی آمد و رفت کے لیے الگ الگ راستے مختص کیے گئے ہیں تاکہ رش اور دھکم پیل سے بچا جا سکے۔ پل کی مختلف منزلوں پر ٹھنڈے پانی کے کولرز اور تازہ ہوا کے لیے بڑے پنکھے نصب کیے گئے ہیں تاکہ شدید گرمی میں بھی حجاج کو سہولت میسر رہے۔
سعودی سکیورٹی فورسز، سکاوٹس اور ہزاروں رضا کار حجاج کی رہنمائی، مدد اور حفاظت کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر منیٰ، مزدلفہ اور جمرات کے علاقوں میں نظم و ضبط اور سہولیات کے مؤثر انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔


