میری نوکری ختم: برطانیہ میں اے آئی سے لاکھوں افراد کو روزگار جانے کا خوف

برطانیہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی تیز رفتار ترقی نے ہزاروں وائٹ کالر ملازمین کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جبکہ مترجمین، فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد اور ٹیکنالوجی شعبے کے کارکنان اپنی ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔

برطانوی مترجم جیسیکا اسپینگلر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس وقت پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ان کی ملازمت خطرے میں ہے جب ایک کلائنٹ نے انہیں مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے اصطلاحات کا ذخیرہ تیار کرنے کا کہا۔انہیں محسوس ہوا کہ وہ دراصل اپنے ہی متبادل کو تیار کر رہی ہیں۔

برطانیہ، جہاں معیشت کا تقریباً 80 فیصد حصہ سروس سیکٹر پر مشتمل ہے، وہاں اے آئی تیزی سے سستا، تیز اور مؤثر متبادل بنتا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات اب عملی طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2024 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا تھا کہ برطانیہ کے دو تہائی سے زائد ملازمین ایسے کام انجام دیتے ہیں جو مصنوعی ذہانت باآسانی کر سکتی ہے، جس سے برطانیہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔

جیسیکا اسپینگلر کے مطابق اب انہیں کارپوریٹ پریس ریلیز اور یوزر مینوئلز کے ترجمے کے کام تقریباً ملنا بند ہو گئے ہیں، جبکہ زیادہ تر کام اے آئی کے تیار کردہ ترجموں کی پروف ریڈنگ تک محدود ہو چکا ہے۔ کئی ادارے آج بھی وہی یا اس سے کم معاوضہ دے رہے ہیں جو دس برس پہلے دیا جاتا تھا۔

مترجم ہولی پارسنز کا کہنا ہے کہ انہیں مشین کے ناقص ترجموں کو مکمل طور پر دوبارہ لکھنا پڑتا ہے، مگر انہیں کم معاوضہ دیا جاتا ہے کیونکہ کمپنیاں اے آئی کی وجہ سے زیادہ ادائیگی نہیں کرنا چاہتیں۔وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بچوں کی سرگرمیوں کی رہنما کے طور پر کام کرکے حاصل کرتی ہیں۔

دوسری جانب فلم انڈسٹری بھی اے آئی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہی۔ لندن سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ سنیماٹوگرافر لورا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے فلمی کام کے مواقع بری طرح متاثر کیے ہیں، جس کے باعث وہ اب جنوبی انگلینڈ میں آؤٹ ڈور انسٹرکٹر بننے کی تربیت لے رہی ہیں۔

اسی طرح سنڈینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ یافتہ مختصر فلم پر کام کرنے والے رفائی اجالا نے فلمی کیریئر چھوڑ کر پلمبر بننے کی تربیت شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق وہ اب ایسا پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جو “اے آئی پروف” ہو اور مستقبل میں استحکام فراہم کر سکے۔

مورگن اسٹینلے کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی اپنانے والی برطانوی کمپنیوں نے اکتوبر 2025 تک اپنے ورک فورس میں اوسطاً 8 فیصد کمی کی، جو جرمنی، جاپان اور آسٹریلیا سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف امریکا ایسا ملک تھا جہاں اے آئی کے باوجود ملازمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

کنگز کالج لندن کے معاشیات کے پروفیسر بوکے کلین ٹیسلنک نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے باعث ایک “تکلیف دہ عبوری دور” شروع ہو سکتا ہے کیونکہ نئی ملازمتیں پیدا ہونے میں وقت لگے گا۔ چیٹ جی پی ٹی کے آغاز کے بعد خاص طور پر انٹری لیول سافٹ ویئر ڈویلپرز اور ڈیٹا اینالسٹس کی نوکریوں کے اشتہارات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ پہلے ہی نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کا سامنا کر رہا ہے، جہاں 16 سے 24 سال عمر کے ہر چھ میں سے ایک نوجوان کے پاس روزگار موجود نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ لاکھوں افراد کو نئی مہارتیں سیکھنے اور بدلتی مارکیٹ کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہوگی۔