حج 2026 اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور آج 11 ذوالحجہ یعنی ایامِ تشریق کے پہلے دن لاکھوں حجاج کرام نے منیٰ میں تینوں جمرات کو سات، سات کنکریاں مارنے کی سعادت حاصل کی۔
ایامِ تشریق عیدالاضحیٰ کے بعد شروع ہوتے ہیں اور 11، 12 اور 13 ذوالحجہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں حجاج کرام مخصوص ترتیب کے تحت چھوٹے، درمیانے اور بڑے شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔
مذہبی روایات کے مطابق ماضی میں قربانی کے گوشت کو دھوپ میں خشک کیا جاتا تھا، جس عمل کو عربی میں “تشریق” کہا جاتا ہے، اسی نسبت سے ان دنوں کو ایامِ تشریق کا نام دیا گیا۔
رمی جمرات کا آغاز مسجد خیف کے قریب واقع چھوٹے شیطان سے کیا جاتا ہے، اس کے بعد درمیانے جمرہ اور آخر میں جمرہ عقبہ یا بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ یہی ترتیب 12 اور 13 ذوالحجہ کو بھی برقرار رہتی ہے۔
حکام کے مطابق وہ حجاج جو جلد واپسی چاہتے ہیں، انہیں اجازت ہے کہ 12 ذوالحجہ کی رمی مکمل کرنے کے بعد غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ کی حدود سے نکل جائیں، جبکہ مزید قیام کرنے والے حجاج کے لیے 13 ذوالحجہ کی رمی بھی ضروری ہے۔
ادھر جمرات کمپلیکس میں حجاج کی آمد و رفت کو منظم رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی اور انتظامی منصوبے پر عمل جاری ہے۔ جمرات پل کی مختلف منزلوں کے لیے الگ الگ راستے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکار مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
راستوں میں ہلالِ احمر کے یونٹس، رضا کار اور فرسٹ ایڈ ٹیمیں بھی تعینات ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے حجاج پر پانی کی پھوار برسائی جا رہی ہے جبکہ مختلف مقامات پر نصب کولنگ پولز ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اہلِ مکہ کی جانب سے پانی کی سبیلوں کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے جہاں حجاج میں ٹھنڈے پانی کی بوتلیں تقسیم کی جا رہی ہیں۔
منیٰ کی فضاؤں میں روحانیت، صبر اور عقیدت کے دلکش مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ حجاج کرام عبادات میں مصروف اپنے حج کی تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔


