روبوٹس کو بھی کپڑوں کی ضرورت : جنوبی کوریا میں ریمپ پر ہیومینائیڈز کی واک

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں منعقد ہونے والے ایک منفرد فیشن شو نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی، جہاں انسانوں کے ساتھ ہیومنائیڈ روبوٹس بھی ریمپ پر جلوہ گر ہوئے۔ اس جدید اور ہائی ٹیک شو میں انسانی ماڈلز اور ان کے روبوٹ ساتھی ایک جیسے ملبوسات پہن کر اسٹیج پر واک کرتے دکھائی دیے۔

اے ایف پی کے مطابق فیشن شو میں نیلے رنگ کے ٹیکسان طرز کے لباس، روبوٹ کے لیے کاؤ بوائے ہیٹ، چمکدار سلور پفر جیکٹس، ریشمی لباس اور خلائی دور سے متاثر ڈھیلے سیاہ ٹراؤزرز شامل تھے۔ بعض ڈیزائن 1970 کی دہائی کے مشہور راک اسٹار ڈیوڈ بووی کے انداز سے متاثر دکھائی دیے۔

تقریب کا انعقاد گلیکسی کارپوریشن نامی کمپنی نے کیا کہ جس کا مقصد یہ سوال اٹھانا تھا کہ انسان اور روبوٹ مستقبل میں ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟”

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چوئی یونگ ہو نے کہا کہ ہمیں احساس ہوا کہ روبوٹس کو بھی کپڑے پہننے کی ضرورت ہے۔ جس طرح ہر انسان منفرد ہوتا ہے، اسی طرح ہر روبوٹ کی بھی اپنی شناخت ہونی چاہیے۔

کمپنی نے اعلان کیا کہ یہ خصوصی ملبوسات رواں سال کے آخر تک ماک 33 نامی برانڈ کے تحت متعارف کروائے جائیں گے۔

فیشن شو میں استعمال ہونے والے روبوٹس غالباً چینی اسٹارٹ اپ یونی ٹری کے تیار کردہ ہیومنائیڈ ماڈلز تھے، جو کم لاگت اور جدید صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جدید روبوٹس اب رقص، دوڑ اور بیک فلپ جیسے پیچیدہ کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔ مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلے نے پیش گوئی کی ہے کہ 2050 تک دنیا میں ایک ارب سے زیادہ ہیومنائیڈ روبوٹس موجود ہو سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل خودکار روبوٹس ابھی بھی نایاب ہیں اور زیادہ تر جدید مظاہرے ریموٹ کنٹرول یا پہلے سے پروگرام شدہ نظام کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔