جاپان کی آبادی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ریکارڈ کمی سامنے آئی ہے، جس نے دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
جاپانی حکومت کی جانب سے جاری مردم شماری کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک کی آبادی کم ہو کر تقریباً 12 کروڑ 30 لاکھ رہ گئی، جو 2020 کے مقابلے میں 30 لاکھ سے زائد کم ہے۔
یہ کمی 1920 سے شروع ہونے والی مردم شماری کی تاریخ میں سب سے بڑی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ 2015 سے 2020 کے دوران ہونے والی کمی کے مقابلے میں یہ تین گنا زیادہ ہے۔
جاپان کے اعلیٰ حکومتی ترجمان مینورو کیہارا کے مطابق یہ اعداد و شمار ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں آبادی میں کمی کا بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
جاپان پہلے ہی دنیا میں کم ترین شرحِ پیدائش اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی والے ممالک میں شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مسلسل دسویں سال بچوں کی پیدائش میں کمی ریکارڈ کی گئی، اور پورے سال میں صرف 7 لاکھ 5 ہزار 809 بچے پیدا ہوئے۔
اگرچہ ماہرین امیگریشن کو اس مسئلے کا ممکنہ حل قرار دیتے ہیں، تاہم جاپانی وزیرِ اعظم سانئی تاکائیچی غیر ملکیوں کی آمد پر مزید سخت اقدامات کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔
حکومت نے حالیہ برسوں میں شادی اور بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے، جن میں ڈیٹنگ ایپس کا اجرا، بچوں کی پرورش کے الاؤنس میں اضافہ اور والدین کی رخصت پر سبسڈی شامل ہیں، مگر ان کوششوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔



