رات 9 بجے کے بعد کھانا؟ نئی تحقیق نے آنتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رات 9 بجے کے بعد کھانا کھانے کی عادت اور مسلسل ذہنی دباؤ (اسٹریس) مل کر انسانی آنتوں اور نظامِ ہاضمہ کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔

ڈائیجیسٹیو ڈیزیز ویک 2026 کے دوران پیش کی گئی تحقیق کے مطابق دیر رات کھانا کھانے والے اور زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار افراد میں قبض، اسہال اور دیگر ہاضمے کے مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کی سربراہی نیویارک میڈیکل کالج سے وابستہ ہاریکا دادیگری نے کی، تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ افراد جو اپنی روزانہ کیلوریز کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ رات 9 بجے کے بعد کھاتے ہیں اور ساتھ ہی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، ان میں آنتوں کی خرابیوں کا خطرہ 1.7 سے 2.5 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

ہاریکا دادیگری کے مطابق ہم نے پایا کہ صرف کھانے کی نوعیت نہیں بلکہ کھانے کا وقت بھی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ماہرین کے مطابق دیر رات کھانا جسم کے قدرتی سارکیڈین ردھم یعنی حیاتیاتی گھڑی کو متاثر کرتا ہے، جس کے باعث ہاضمے کے انزائمز، انسولین حساسیت اور آنتوں کی حرکت درست طریقے سے کام نہیں کر پاتی۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسٹریس اور لیٹ نائٹ اسنیکنگ کا امتزاج آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی تعداد کم کر دیتا ہے، جسے “گٹ ڈس بایوسس” کہا جاتا ہے۔

ماہر غذائیت مشیل روتھین اسٹین نے کہامسئلہ صرف دیر رات کھانا نہیں، بلکہ اسٹریس اور بے ترتیب طرزِ زندگی کے ساتھ اس کا ملاپ زیادہ خطرناک بنتا ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے مشورہ دیا ہے کہ شدید ذہنی دباؤ کے دوران کھانے کے اوقات کو منظم رکھا جائے، زیادہ کیلوریز دن کے وقت لی جائیں اور رات گئے بھاری اسنیکس سے پرہیز کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق کبھی کبھار ہلکا پھلکا اسنیک نقصان دہ نہیں، لیکن مستقل طور پر دیر رات کھانا اور ذہنی دباؤ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔