فرانس کا بڑا قدم،غزہ فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں سے اسرائیلی زیادتیوں کی تحقیقات کا حکم

فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا میں شامل اپنے شہریوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کے لیے پراسیکیوٹر سے رجوع کر رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ جین نیول بیرٹ کے مطابق انہیں ترکی میں موجود فرانسیسی قونصل جنرل کی ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلوٹیلا میں شامل فرانسیسی شہریوں کو مبینہ طور پر جسمانی تشدد، سردی میں رکھنے، مارپیٹ اور توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ان اطلاعات میں جنسی تشدد کے الزامات بھی شامل ہیں، اور یہ تمام اقدامات ممکنہ طور پر فوجداری جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے معاملہ باضابطہ طور پر پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا نامی بین الاقوامی امدادی بحری قافلے کے ارکان کو گزشتہ ہفتے اسرائیل کی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لے لیا تھا ۔

متعدد کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں حراست کے دوران بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض افراد کو طبی امداد بھی دی گئی۔ کم از کم 15 افراد نے جنسی زیادتی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی قانونی جانچ جاری ہے اور تحقیقات کے بعد ہی حتمی مؤقف سامنے آئے گا۔