پاکستان کا صرف ماضی ہے، نہ حال ہےاور نہ مستقبل: انور مقصود

معروف ادیب، ڈرامہ نگار اور مزاح نگار انور مقصود نے کہا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک ماضی میں جی رہا ہے، جبکہ حال اور مستقبل کی سمت واضح نظر نہیں آتی۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انور مقصود نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 67 برسوں میں جو کچھ لکھا، وہ اپنے مشاہدات اور ملکی حالات کو سامنے رکھ کر لکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی پر تنقید نہیں کرتے، تاہم اگر لوگ ان کی تحریروں میں اپنی جھلک دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔

اپنے کیریئر کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انور مقصود نے بتایا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں سفارش پر بینک میں ملازمت تو مل گئی، لیکن ان کا اصل شوق مصوری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پہلی پینٹنگ نمائش 1958 میں کراچی میں منعقد ہوئی تھی اور آج بھی ان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ مصوری سے حاصل ہوتا ہے۔

شوبز میں آمد کے حوالے سے انہوں نے معروف براڈکاسٹر ضیا محی الدین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی حوصلہ افزائی پر انہوں نے ٹیلی وژن کے لیے لکھنا شروع کیا۔ بعد ازاں انہوں نے مقبول مزاحیہ پروگرام ’’ففٹی ففٹی‘‘ کی ابتدائی 18 اقساط تحریر کیں، تاہم مناسب پذیرائی نہ ملنے پر پروگرام سے علیحدگی اختیار کر لی۔

انور مقصود نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے ’’شوشا‘‘ لکھا جس میں سنجیدہ اداکاروں نے کامیڈی کردار ادا کیے۔ انہوں نے معروف اداکار معین اختر کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی منظم اور ڈسپلن کے پابند فنکار تھے اور تحریر کے مطابق کردار نبھاتے تھے، جس کی وجہ سے ’’لوز ٹاک‘‘ غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

تھیٹر کے حوالے سے انور مقصود نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں تھیٹر کے فروغ کے لیے مزید کمیونٹی سینٹرز کی ضرورت ہے تاکہ مقامی ٹیلنٹ کو اظہار کا موقع مل سکے۔

اپنے ڈرامے ’’ساڑھے چودہ اگست‘‘ کی عارضی بندش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بعض نکات متعلقہ اداروں کو قابل قبول نہیں تھے، جس کے باعث ڈرامے کی پیشکش روک دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ایک اور ڈرامے ’’سیاچن‘‘ کو دوبارہ پیش کرنے کی اجازت اس شرط پر دی گئی کہ اس کے متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

انور مقصود نے کہا کہ بعض افراد ان کے مزاح پر تنقید کرتے ہیں، تاہم وہ اس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے کیونکہ اکثر ایسی تنقید شہرت یا سوشل میڈیا ویوز حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔

پاکستان میں مزاح کے لیے کم ہوتی برداشت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مزاح کو سمجھنے اور برداشت کرنے کے لیے تعلیم اور شعور ضروری