امیزون کے سربراہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل چیج بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے طاقتور راکٹ نیو گلین گراؤنڈ ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہوگئے، جسے کمپنی اور امریکی خلائی ادارے ناسا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 98 میٹر بلند نیو گلین راکٹ فلوریڈا کے کیپ کیناویرل میں آئندہ پرواز کی تیاری کے سلسلے میں گراؤنڈ ٹیسٹ سے گزر رہا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً 9 بجے زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
دھماکے کے نتیجے میں راکٹ آگ کے بڑے گولے میں تبدیل ہوگیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کے بعد ناسا کے منتظم جیراڈ اساک مننے کہا کہ خلائی پروازیں ہمیشہ خطرات سے بھرپور ہوتی ہیں اور حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
ابتدائی تصاویر کے مطابق دھماکے سے نہ صرف راکٹ بلکہ لانچ پیڈ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لانچنگ سہولت کی بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
نیو گلین راکٹ بلیو اوریجن کے مستقبل کے منصوبوں اور ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ناسا نے حال ہی میں قمری مشنز کے لیے بلیو اوریجن کو نیا معاہدہ دیا تھا، جبکہ یہ راکٹ چاند پر سامان اور خلانوردوں کی منتقلی سے متعلق منصوبوں میں بھی استعمال ہونا تھا۔
ماہرین کے مطابق حادثے کے باعث ناسا کے قمری پروگرام کے شیڈول پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ادارہ 2027 میں اہم آزمائشی مشن اور 2028 تک انسانوں کو دوبارہ چاند پر اتارنے کا ہدف رکھتا ہے۔
دوسری جانب یہ دھماکہ بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے کے لیے بھی دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس منصوبے کے متعدد سیٹلائٹس نیو گلین راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجے جانے تھے۔


