یورپی یونین نے امریکی ڈیجیٹل کمپنیوں اور چینی سیمی کنڈکٹرز پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور چپس کے شعبوں میں مقامی متبادل کو فروغ دیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن 3 جون کو ’’ٹیکنالوجیکل خودمختاری پیکج‘‘ کے نام سے نئے اقدامات کا اعلان کرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد یورپ کو عالمی ٹیکنالوجی اور اقتصادی طاقت کی دوڑ میں زیادہ خودمختار اور مضبوط بنانا ہے۔
یورپی حکام کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ یورپ کی کلاؤڈ سروسز مارکیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ امریکی کمپنیوں کے پاس ہے۔ یورپی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ کسی بھی سیاسی یا سفارتی کشیدگی کی صورت میں بیرونی طاقتوں پر حد سے زیادہ انحصار یورپ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یورپی یونین کی مسابقتی امور کی سربراہ ٹریسا ریبیرا نے حال ہی میں کہا تھا کہ یورپ کو اپنی صلاحیتیں خود پیدا کرنا ہوں گی اور ایسی صورتحال سے بچنا ہوگا جہاں بیرونی قوتیں یورپی معیشت، خدمات یا پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکیں۔
مجوزہ پیکج کے تحت ’’کلاؤڈ اینڈ اے آئی ڈیویلپمنٹ ایکٹ‘‘ متعارف کرایا جائے گا، جس کا مقصد ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نیا ’’چپس ایکٹ‘‘ بھی پیش کیا جائے گا جو سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہوگا۔
پیکج میں سرکاری اداروں کو اوپن سورس سافٹ ویئر کے زیادہ استعمال کی بھی ترغیب دی جائے گی تاکہ یورپی ممالک کو اپنے ڈیجیٹل نظاموں پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو اور وہ مخصوص غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار سے بچ سکیں۔
مجوزہ حکمت عملی کے مطابق یورپی حکومتوں کو کلاؤڈ اور اے آئی سروسز کے حوالے سے ’’خودمختاری کے خطرات‘‘ کا جائزہ لینا ہوگا اور جہاں ممکن ہو وہاں یورپی متبادل تلاش کرنے ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی حکام اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ان منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین میں امریکی سفیر اینڈریو پزڈر کا کہنا ہے کہ یورپ کو مسابقت بڑھانے کے لیے امریکی کمپنیوں کو محدود کرنے کے بجائے اپنی اختراعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔
ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندہ تنظیموں نے بھی اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کے پاس یورپی ڈیجیٹل نظاموں کو بند کرنے کا کوئی ’’کل سوئچ‘‘ موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیاں جہاں کاروبار کرتی ہیں وہاں کے قوانین کی پابندی کرتی ہیں اور یورپی صارفین اپنے ڈیٹا پر مکمل اختیار برقرار رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کا یہ اقدام امریکہ اور چین کے مقابلے میں اپنی ٹیکنالوجی صنعت کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تاہم اس سے یورپ اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں کے حوالے سے نئی کشیدگی بھی جنم لے سکتی ہے۔


