اہم ترین

امریکا-ایران کشیدگی نے کرپٹو مارکیٹ ہلا دی، بٹ کوائن دو ماہ کی کم ترین سطح پر

عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جہاں بٹ کوائن سمیت بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے رجحان نے مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

گزشتہ روز دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت گر کر تقریباً 67 ہزار 340 ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایتھیریم بھی دباؤ کا شکار رہی اور اس کی قیمت تقریباً ایک ہزار 920 ڈالر تک محدود ہو گئی۔ اس کے علاوہ سولانا، بی این بی، ایکس آر پی اور دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی مندی کی لپیٹ میں رہیں۔

مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے کی ایک اہم وجہ معروف امریکی کمپنی اسٹریٹیجی کی جانب سے بٹ کوائن کی فروخت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

کمپنی نے حالیہ دنوں میں 32 بٹ کوائن فروخت کیے، جو گزشتہ چار برسوں میں اس کی پہلی فروخت تھی۔ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں میں خدشات کو جنم دیا اور فروخت کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران بحران سے نمٹنے میں مشکلات بھی عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث سرمایہ کار خطرناک اثاثوں سے دوری اختیار کر رہے ہیں، جس کا اثر کرپٹو مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوتا ہے تو کرپٹو مارکیٹ دوبارہ تیزی کی جانب لوٹ سکتی ہے۔ فی الحال سرمایہ کار عالمی سیاسی حالات اور بڑے اداروں کی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان