بولی ووڈ کی شاہکار فلموں میں سے ایک منا بھائی ایم بی بی ایس میں کام کرنے والی اداکارہ نے ساتھی اداکار کی جانب سے شوٹنگ کے دوران ہراساں کئے جانے کا انکشاف کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کےمطابق اداکارہ پریا باپت نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں سے جڑا ایک ناخوشگوار واقعہ بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک ساتھی اداکار کے رویے نے انہیں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس دلایا تھا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں پریا باپٹ نے بتایا کہ انہیں فلموں میں کِسنگ سین کرنے پر اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ کہانی کا لازمی حصہ ہو اور اس کی واضح ضرورت موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ابتدائی دور کی ایک فلم میں شامل ایک کِسنگ سین کے بارے میں انہیں ابتدا ہی سے تحفظات تھے اور وہ بار بار ہدایت کار سے اس کی ضرورت کے بارے میں سوال کرتی رہی تھیں۔
اداکارہ کے مطابق ان کا اعتراض سین کرنے پر نہیں بلکہ اس بات پر تھا کہ آیا یہ منظر واقعی کہانی کے تناظر میں موزوں اور ضروری تھا یا نہیں۔ ہدایت کار کے اصرار پر انہوں نے بالآخر اس سین کے لیے رضامندی ظاہر کر دی۔
پریا باپٹ نے مزید بتایا کہ شوٹنگ کے دوران صورتحال اس وقت پیچیدہ ہو گئی جب ایک ساتھی اداکار نے بعض مناظر میں غیر ضروری طور پر بار بار تبدیلیاں اور اضافی حرکات شامل کرنے کی کوشش کی، جس سے وہ خود کو غیر آرام دہ محسوس کرنے لگیں۔
ان کے مطابق اس وقت وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں تھیں اور یہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ ایسے حالات میں کس طرح ردعمل دیا جائے یا اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا جائے۔
اداکارہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد بھی مذکورہ اداکار ان سے رابطے کی کوشش کرتا رہا۔ دونوں ایک ہی ہوٹل میں مختلف کمروں میں مقیم تھے اور اداکار مسلسل پیغامات بھیج کر ملاقات کی درخواست کرتا رہا، تاہم انہوں نے واضح طور پر ایسی تمام کوششوں میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔
پریا باپٹ کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے انہیں بے حد پریشان کیا اور ان کی خواہش ہے کہ کسی بھی فنکار کو پیشہ ورانہ ماحول میں اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


