امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم معاہدے کو حزب اللہ کی جانب سے مکمل طور پر فائر بندی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں اس پیش رفت کا اعلان کیا گیا۔
اسرائیل اور لبنان، جن کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ جنوبی لبنان میں چند ’’پائلٹ زونز‘‘ قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی فوج کو مکمل کنٹرول حاصل ہوگا اور کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ کو وہاں سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں جانب سے سرحدی جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ حزب اللہ نے بدھ کے روز اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق جنگ بندی کا نفاذ حزب اللہ کی جانب سے مکمل فائر بندی اور جنوبی لبنان سے اس کے جنگجوؤں کے انخلا سے مشروط ہوگا۔ دونوں ممالک کے سفارت کاروں کے درمیان یہ مذاکراتی دور مارچ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد چوتھا براہ راست رابطہ تھا۔
فریقین نے جون کے تیسرے ہفتے میں دوبارہ مذاکرات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان میں جاری تنازعے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کو الگ الگ دیکھنا چاہیے، تاہم ایران نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیروت پر کسی بڑے حملے کی صورت میں جنگ دوبارہ پوری شدت سے بھڑک سکتی ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان سے آنے والے دو راکٹ اور ایک مشتبہ فضائی ہدف کو تباہ کر دیا، جبکہ حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیلی فوجی دستوں اور عسکری تنصیبات پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بدھ کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں جنوبی شہر صور کے قریب چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں شامی اور فلسطینی شہری شامل تھے۔ مزید دو طبی امدادی کارکن ایک ایمبولینس پر حملے میں مارے گئے جبکہ ایک اور طبی کارکن بعد ازاں الگ حملے میں جان کی بازی ہار گیا۔
لبنانی فوج نے بھی ایک فوجی کی ہلاکت اور دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیل پر فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
واضح رہے کہ اپریل میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے مسلسل حملے کرتے رہے، جس کے باعث جنگ بندی عملی طور پر نافذ نہ ہو سکی۔


