گردوں کی بیماریوں سے بچنا ہے تو کچھ علامات ہرگز نظر انداز نہ کریں

دنیا بھر میں گردوں کی دائمی بیماری تیزی سے ایک بڑے طبی چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا گیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک یہ بیماری دنیا میں اموات کی پانچ بڑی وجوہات میں شامل ہو سکتی ہے۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع تین نئی تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 78 کروڑ 80 لاکھ سے 84 کروڑ 40 لاکھ بالغ افراد گردوں کی دائمی بیماری کا شکار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، دل کے امراض اور بڑھتی عمر اس بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ غیر متوازن طرزِ زندگی اور ناقص غذائی عادات بھی گردوں پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماری کو خاموش بیماری اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ابتدائی مراحل میں اس کی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مریض اس وقت تشخیص کے مرحلے تک پہنچتے ہیں جب گردوں کو خاصا نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز، جن میں ای جی ایف آر ٹیسٹ، البیومین یوریا ٹیسٹ، جدید امیجنگ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی طریقے شامل ہیں، بیماری کی ابتدائی تشخیص میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد تشخیص سے بیماری کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے اور گردوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مردوں اور خواتین میں گردوں کی بیماری کی نوعیت، اس کی پیش رفت اور علاج کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں مریضوں کی ضروریات کے مطابق ذاتی نوعیت کے علاج پر زور دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب نئی ادویات گردوں کی بیماری کی رفتار کم کرنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں امید افزا نتائج دکھا رہی ہیں۔

ماہر غذائیت اَمن پوری کے مطابق خوراک کی غلط عادات بھی گردوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ زیادہ پروٹین، نمک، چینی اور غیر صحت بخش چکنائیوں کا استعمال گردوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ہاتھوں، پیروں یا آنکھوں کے گرد مسلسل سوجن، پیشاب میں تبدیلی، جھاگ دار پیشاب، مستقل تھکن، بھوک میں کمی، منہ میں دھات جیسا ذائقہ اور رات کے وقت پٹھوں میں کھچاؤ جیسی علامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرے سے دوچار افراد کو باقاعدگی سے گردوں کے ٹیسٹ کروانے چاہئیں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ممکن بنایا جا سکے۔