دبئی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایک نیا اور انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خلیجی خطے میں متعدد فوجی اور بحری اہداف پر حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو “منظور شدہ راستہ استعمال نہ کرنے” پر انتباہی فائرنگ کے بعد روک دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ایک دوسرے جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) کے مطابق حملے میں ایک جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا جس سے وہ ناکارہ ہو گیا۔
ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے کے علاوہ عمان کی بندرگاہ دقم میں امریکی بحری بیڑوں کے لاجسٹک مراکز اور طیارہ بردار جہازوں کے ایندھن کی تنصیبات پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ عمان نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کے ردعمل میں تقریباً 140 ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں، اسلحہ کے گودام، مواصلاتی نظام اور ساحلی نگرانی کے مراکز شامل تھے۔
خلیجی ممالک میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی۔ کویت نے بتایا کہ اس کا فضائی دفاع میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکنے میں مصروف ہے، جبکہ بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی کہ اس کا فضائی دفاع ممکنہ خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔ قطر نے متعدد میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
اردن کی فوج کے مطابق ایران کے تین میزائل ملک کے مختلف علاقوں میں گرے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر عمان کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے کے بعد بھارت نے بتایا کہ اس کے 10 شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے، جبکہ ایک شہری تاحال لاپتا ہے۔
پاکستان نے بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “ایران نے غلط فیصلہ کیا، اب اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔”
دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے تحریری پیغام میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف انتقام لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور یہ ضرور پورا کیا جائے گا۔”
آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی شدید اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔










