لندن: انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ( ای سی بی) نے ایک بڑے فیصلے میں برینڈن میک کولم کو انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، تاہم وہ بدستور قومی وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی) ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
نیوزی لینڈ کے سابق کپتان میک کولم کے دور کے اختتام کی بڑی وجہ انگلینڈ کی مسلسل خراب ٹیسٹ کارکردگی بنی۔ ٹیم اپنے آخری 9 ٹیسٹ میچوں میں سے 7 میں شکست سے دوچار ہوئی، جبکہ 2025-26 کی ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 4-1 کی بدترین شکست اور حالیہ ہوم سیریز میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2-1 کی ناکامی نے ان کی پوزیشن مزید کمزور کر دی۔
ان دونوں سیریز کے دوران ٹیم کے اندر مبینہ ڈرنکنگ کلچر اور نظم و ضبط سے متعلق تنازعات بھی سامنے آئے، جنہوں نے انگلش کرکٹ کو شدید تنقید کی زد میں رکھا۔
برینڈن میک کولم نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ پر بے حد فخر ہے۔ ان کے مطابق وہ اس فیصلے پر دکھی ضرور ہیں، لیکن بورڈ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کی تمام توجہ وائٹ بال ٹیم کو مزید مضبوط بنانے پر ہوگی۔
میک کولم کا ٹیسٹ دور شاندار انداز میں شروع ہوا تھا۔ بین اسٹوکس کی قیادت میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ اور پاکستان کو 3-0 سے وائٹ واش کیا، جبکہ 2023 کی ایشز سیریز بھی 2-2 سے برابر رہی۔ تاہم بعد ازاں بھارت میں 4-1 کی شکست اور آسٹریلیا میں ایشز کی ناکامی نے ان کے جارحانہ “باز بال” انداز پر سوالات کھڑے کر دیے۔
دوسری جانب سابق کپتان بین اسٹوکس بھی نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے دوران بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں، جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم قیادت کے حوالے سے بھی نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔
ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے کہا کہ میک کولم نے ٹیسٹ ٹیم میں نئی روح پھونکی اور کئی یادگار فتوحات دلائیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیم کو نئی سمت دی جائے تاکہ اگلے سال اپنے میدانوں میں ہونے والی ایشز سیریز کی بہتر تیاری کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ کے لیے آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ اور سابق انگلش کوچ اینڈی فلاور کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے خلاف اگلے ماہ ہونے والی ہوم ٹیسٹ سیریز سے قبل انگلینڈ کو نہ صرف نیا ہیڈ کوچ بلکہ نیا ٹیسٹ کپتان بھی مقرر کرنا ہوگا، جس کے باعث انگلش کرکٹ ایک اہم تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔










