یورپی یونین نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی جانب سے ڈیجیٹل مواد سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کو دور کرنے کے لیے پیش کیے گئے اصلاحی منصوبے کو منظور کر لیا ہے۔ تاہم، پلیٹ فارم پر عائد 120 ملین یورو (تقریباً 138 ملین ڈالر) کا جرمانہ بدستور برقرار رہے گا جبکہ اس کے خلاف دائر اپیل بھی جاری رہے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن نے دسمبر 2025 میں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کی خلاف ورزی پر ایکس کو جرمانہ کیا تھا۔ الزامات میں شفافیت کے تقاضے پورے نہ کرنا، بلیو چیک مارک کے ذریعے صارفین کو گمراہ کن تاثر دینا، اور محققین کو عوامی ڈیٹا تک مناسب رسائی فراہم نہ کرنا شامل تھا۔ یہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا پہلا جرمانہ تھا۔
یورپی کمیشن کے مطابق ایکس نے محققین کو اشتہارات سمیت مزید معلومات تک بہتر رسائی دینے، ان کی درخواستوں کا بروقت جواب دینے اور پلیٹ فارم پر شفافیت بڑھانے کے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی پہلے ہی اپنے بلیو چیک مارک کو “ویریفائیڈ” کے بجائے “پریمیم” صارفین کی علامت میں تبدیل کر چکی ہے۔
یورپی کمیشن کے ڈیجیٹل امور کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے کہا کہ یہ اقدامات درست سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں اور ان سے محققین، سول سوسائٹی اور عام صارفین کو ایکس کے نظام اور اس کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔
یورپی کمیشن نے ایکس کو اصلاحی اقدامات مکمل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے، جس کے بعد ان کا آزاد اور غیر جانبدار آڈٹ بھی کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایکس کی جانب سے جرمانے کے خلاف فروری میں دائر کی گئی اپیل بدستور زیر سماعت ہے، جبکہ یورپی کمیشن نے 2023 میں شروع کی گئی اپنی وسیع تحقیقات بھی ابھی مکمل نہیں کیں۔ علاوہ ازیں، سال کے آغاز میں کمیشن نے ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک کے خلاف خواتین اور کم عمر افراد کی جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر تیار کرنے کے معاملے پر بھی الگ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
یہ معاملہ یورپی یونین اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ریگولیٹری تنازع کا حصہ ہے، جہاں امریکی حلقے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کو اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ یورپی حکام کا مؤقف ہے کہ ان قوانین کا مقصد صارفین کے تحفظ اور آن لائن شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔











