غزہ میں جاری جنگ اور وسیع پیمانے پر تباہی کے باوجود فلسطینی رضاکار اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں قائم ایک عارضی خیمے میں ماہرین اور رضاکار ہزاروں سال پرانے نوادرات، موزائیک فن پاروں، قدیم دستاویزات اور تاریخی تصاویر کو صفائی، مرمت اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی صورت میں محفوظ کر رہے ہیں تاکہ جنگ کے دوران تاریخ کا یہ قیمتی سرمایہ ضائع نہ ہو۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران غزہ میں 160 سے زائد تاریخی اور ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں۔

ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اس مہم میں شریک فلسطینی مصور محمد ابو لاحیہ کا کہنا ہے کہ متعدد قدیم موزائیک فن پارے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، تاہم ان آثار کو دوبارہ محفوظ کرنا نہ صرف نئی نسل کو اپنی تاریخ سے جوڑنے بلکہ دنیا کو فلسطینی ثقافتی شناخت کا پیغام دینے کے لیے بھی ضروری ہے۔

اس منصوبے کی قیادت کرنے والی میاسم ایسوسی ایشن فار کلچر اینڈ آرٹس کے مطابق رضاکار محدود وسائل کے باوجود عام پینٹ برش، دستانوں اور عارضی طور پر تیار کیے گئے اسکیننگ سسٹم کی مدد سے نوادرات اور تاریخی دستاویزات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ ان میں پانچ ہزار سال پرانے پتھر کے اوزار، قدیم موزائیک، برطانوی مینڈیٹ، عثمانی دور، مصری انتظامیہ اور بعد کے ادوار سے متعلق نقشے، اخبارات اور سرکاری دستاویزات بھی شامل ہیں۔

رضاکاروں کا کہنا ہے کہ کئی قیمتی آثار اب بھی ان علاقوں میں موجود ہیں جو اسرائیلی کنٹرول میں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس کے باوجود جو نوادرات اور تاریخی ریکارڈ دستیاب ہیں، انہیں محفوظ بنانے کا کام مسلسل جاری ہے۔
منصوبے میں شامل رضاکار تغرید حجاری کے مطابق بزرگ شہریوں سے ملاقاتیں کر کے ان کی زبانی تاریخی روایات بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں تاکہ غزہ کی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی یادداشت آئندہ نسلوں تک محفوظ انداز میں منتقل کی جا سکے۔











