امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل سے متعلق ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کے فیصلے صرف امریکا کے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے، جبکہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض حلقوں نے ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
جے ڈی وینس نے یہ گفتگو معروف پوڈکاسٹر جو روگن کے پروگرام دی جو روگن ایکسپیرینس میں انٹرویو کے دوران کی، جہاں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران کے ساتھ تعلقات اور امریکی فیصلوں پر اتحادی ممالک کے اثر و رسوخ سمیت مختلف امور پر بات کی۔
نائب صدر امریکا کا کہنا تھا کہ بعض اسرائیلی حکومتی عناصر ایران کے معاملے پر جاری تنازع کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کے خواہاں تھے اور انہوں نے امریکی عوام اور پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تاکہ سفارتی حل کی کوششوں کی مخالفت کی جا سکے۔
جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحادی ممالک سمیت مختلف ممالک امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن تشویش اس وقت ہوتی ہے جب ایسی کوششیں امریکی فیصلوں کو متاثر کرنے لگیں۔ امریکا اسرائیل کا دیرینہ اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات میں مضبوط شراکت داری موجود ہے، تاہم ان کے بقول اتحادی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پالیسی یا ہر فیصلے پر دونوں ممالک کا مؤقف ایک جیسا ہو۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنی پالیسیوں کا تعین اپنے عوام، قومی سلامتی اور اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق مختلف ممالک اپنی ترجیحات کے مطابق امریکی پالیسی پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ واشنگٹن کو خود کرنا ہوتا ہے۔
جے ڈی وینس کے اس بیان کو امریکی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات تاریخی طور پر قریبی رہے ہیں۔ ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ بندی کے معاملات پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات زیر بحث ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی نائب صدر کے الفاظ نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات، ایران پالیسی اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کے کردار پر نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔











