پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا رہے گا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کریں اور مفاہمت کی بنیاد پر تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق اپنے اختلافات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے راستے پر قائم رہیں گے۔
طاہر اندرابی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک سمیت دنیا کے کئی ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت، اشیائے خورونوش اور اقتصادی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز میں حالات جلد معمول پر آئیں گے اور سمندری راستوں کی سلامتی، تحفظ اور آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل کی کوششوں کے لیے خطے کے اہم ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے۔
پاک بھارت معاملات پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے بھارتی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کے خلاف دائر کیے گئے حالیہ مقدمے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی بھارت کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے قانونی عمل کے استعمال کی ایک اور مثال ہے۔
ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسی کارروائیاں کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو ختم کر سکتی ہیں، جس کا ذکر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن طریقے سے ہی ممکن ہے۔
طاہر اندرابی نے بھارت کی جانب سے پاکستان کو پہلگام حملے سے جوڑنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی اس واقعے کی آزاد، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کر چکا ہے، تاہم بھارت اب تک اپنے الزامات کے حق میں کوئی قابل تصدیق ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
ترجمان نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن الزام تراشی سے نہیں بلکہ بات چیت، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم سے ہی ممکن ہے۔










