شام اور امریکا نے شمال مغربی شام کے صوبے ادلب میں ایک غیر فعال فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کی تصدیق کردی ہے۔ جبکہ برطانوی شامی آبزرویٹری کے مطابق حملے ترک فوجی وفد کے اڈے کے دورے کے بعد کیے گئے۔
شامی سرکاری میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے ابو ظہور فوجی اڈے کے رن وے کو آٹھ حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے تنصیبات کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی ایلچی برائے شام ٹام بارک نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لیے غیر ضروری کشیدگی میں اضافہ قرار دیا۔ اسرائیل نے تاحال حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
شامی حکام کے مطابق ابو ظہور ایئربیس 2012 سے غیر فعال ہے اور اس وقت وزارت دفاع کی فورسز کی نگرانی میں ہے۔
شام کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’بلا جواز جارحیت‘‘ قرار دیا اور عالمی برادری و اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسرائیل کی جانب سے شام کی خودمختاری کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر 2024 سے اسرائیل نے شام میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں کے قریب اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون میں بھی اپنی موجودگی قائم کر رکھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترک فوجی وفد نے حالیہ دنوں میں ابو ظہور اڈے کا معائنہ کیا تھا، جس کے بعد اسے دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ترکی شام کی نئی حکومت کا اہم اتحادی ہے، جبکہ اسرائیل اور ترکی کے تعلقات بھی شام اور غزہ کی صورتحال کے باعث کشیدہ ہیں۔











