چین میں روبوٹس کو مستقبل کی ملازمتوں کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے منفرد روبوٹ اسکول قائم کردیا گیا ہے، جہاں مشینوں کو مختلف کاموں کی تربیت دی جاتی ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین کے ہانگژو روبوٹ اسکول میں ’وجی‘ نامی ہیومنائیڈ روبوٹ بچوں کو اسکول کا دورہ کراتا اور ادارے کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔ یہ روبوٹ چین کی کمپنی یونٹری کا تیار کردہ ماڈل ہے۔
اسکول میں کمپنیاں اپنے روبوٹس کو داخل کراتی ہیں، جہاں انہیں مستقبل میں انجام دیے جانے والے مخصوص کاموں کی تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت مکمل ہونے پر روبوٹ کو اس کام کی اہلیت کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔
تربیتی مراکز میں روبوٹس کو کپڑے تہہ کرنے، چیزیں منتقل کرنے، اسپرے کرنے اور کافی بنانے جیسے کام سکھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک قابلِ استعمال روبوٹ ماڈل تیار کرنے کے لیے دسیوں ہزار گھنٹوں کا ڈیٹا درکار ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کے لیے حقیقی دنیا کے غیر متوقع حالات کو خود سمجھ کر ردعمل دینا اب بھی ایک بڑا عالمی چیلنج ہے۔ صرف مصنوعی ذہانت کو روبوٹ میں شامل کردینا کافی نہیں، ہارڈویئر اور عملی تربیت بھی ضروری ہے۔
چین روبوٹکس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کو مینوفیکچرنگ، سپلائی چین اور کم لاگت میں برتری حاصل ہے، جبکہ امریکا سافٹ ویئر اور جدید تحقیق میں آگے ہے۔
کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ میں چین کا حصہ 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ روبوٹس بڑے پیمانے پر حقیقی اور معاشی طور پر مفید کام کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو موجودہ سرمایہ کاری اور کمپنیوں کی قدر کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔











