اہم ترین

عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی کے خلاف وفاقی حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کا حکم دیتے وقت پاکستان جیل قواعد 1978 کے رول 197 کو مدنظر نہیں رکھا۔

حکومت کے مطابق جیل قواعد کے تحت کسی سزا یافتہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کے لیے مخصوص طریقۂ کار اور حکومتی منظوری ضروری ہے۔ ہنگامی صورت میں جیل سپرنٹنڈنٹ فوری اقدام کرسکتا ہے، تاہم حکومت کو اطلاع دینا لازم ہے۔

نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے متعلقہ فریق کو باقاعدہ نوٹس دیے بغیر عبوری مرحلے پر ایسا ریلیف دیا جو حتمی نوعیت کا تھا، جس سے منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار کے تقاضے متاثر ہوئے۔

سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ عدالت نے ان کے طبی معائنے کے لیے ایسے میڈیکل بورڈ کی ہدایت بھی کی تھی جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان شامل ہوں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم طے شدہ قانونی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے اسے واپس لیا جائے۔

پاکستان