اہم ترین

جب تک کوئی اسمبلی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتی میں اعتراض نہیں کرسکتا: بلاول

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے تمام بینچز کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمنٹ اور اس کے عہدوں کو عزت دی ہے۔ پیپلز پارٹی اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان کمیونیکیشن گیپ دور ہوگیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اپنے وزرا انتخابی عمل پر تنقید کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ الیکشن کے عمل کو بہتر کرے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی انتخابی عمل کی بہتری میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ جیتنے والی جماعت جشن مناتی ہے اور ہارنے والی احتجاج کرتی ہے۔ چھوٹے علاقوں میں انتخابات مختلف مراحل میں ہوں اور وہ بھی درست طریقے سے نہ ہوسکیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا، لیکن 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت نے پیپلز پارٹی کے سامنے کوئی مؤقف نہیں رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنا مؤقف دیتی رہی ہے اور عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ پیپلز پارٹی نہ پہلے زور زبردستی مانتی تھی اور نہ آج مانے گی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات لڑ کر آئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے حوالے سے پارلیمان میں جو اتفاق رائے پہلے موجود تھا، پیپلز پارٹی اس کے ساتھ ہے، تاہم آج وہ اتفاق رائے موجود نہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے خلاف سازش کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پارلیمان کو باہر سے بہت سے خطرات ہوسکتے ہیں، لیکن اگر پارلیمان کے اندر موجود لوگ اپنا کردار درست طور پر ادا نہ کریں تو یہ بھی ایک خطرہ ہے۔پارلیمان میں جس مقصد کے لیے سب بیٹھے ہیں، ہر فریق کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کے اعتراض سے وہ آگاہ نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی کو علاج کی ضرورت تھی تو حکومت کو خود یہ اقدام کرنا چاہیے تھا۔ اگر کسی کو علاج کی ضرورت ہے تو ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات متنازع نہ ہوں، خاص طور پر ایک سال قبل ہونے والی جنگ اور کشمیر سے شروع ہونے والے حملوں کے تناظر میں۔ تاہم ان کے بقول آزاد کشمیر کے انتخابات متنازع ہوگئے۔صدر آزاد کشمیر پر حملہ بھی ہوا تھا۔ بلاول کے مطابق ان کے ارکانِ قومی اسمبلی اس لیے آزاد کشمیر گئے کیونکہ وفاقی حکومت کے وزرا کی پوری ٹیم وہاں انتخابات میں موجود تھی۔

پاکستان