دنیا کے مختلف خطوں میں قدرتی آفات اور جنگوں کے دوران مریضوں کا علاج کرنے والے امریکی ڈاکٹر مارک پرلمٹر نے غزہ میں جو کچھ دیکھا، اسے وہ اپنی زندگی کے بدترین تجربات میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے تجربات اب امیریکن ڈاکٹر نامی دستاویزی فلم کا حصہ بن گئے ہیں، جس کی نمائش سنڈانس فلم فیسٹیول میں ہوچکی ہے اور اب امریکا کے منتخب سینما گھروں میں پیش کی جا رہی ہے۔
یہ دستاویزی فلم غزہ جنگ کے سیاسی یا تاریخی پس منظر کے بجائے ان تین امریکی ڈاکٹروں کے تجربات پر توجہ مرکوز کرتی ہے جو اسرائیلی حملوں کے دوران غزہ کے اسپتالوں میں طبی خدمات انجام دیتے رہے۔ فلم کی ہدایت کاری پوہ سی ٹینگ نے کی ہے۔
فلم میں شامل تینوں ڈاکٹروں کا تعلق مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر سے ہے۔ مارک پرلمٹر یہودی ہیں، ڈاکٹر ثائر احمد فلسطینی نژاد مسلمان ہیں جبکہ ڈاکٹر فیروز صدیوا زرتشتی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان ڈاکٹروں کے تجربات کا مرکزی موضوع غزہ کے اسپتالوں میں زخمیوں، بچوں اور طبی عملے کی مشکلات ہیں۔ فلم ان حالات کو ڈاکٹروں کی نظر سے پیش کرتی ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ جنگ کے دوران طبی عملے کو کس نوعیت کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل غزہ میں بعض طبی مراکز کو نشانہ بنانے کی تردید نہیں کرتا اور اس کا مؤقف ہے کہ حماس کے جنگجو اسپتالوں کے نیچے موجود سرنگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب فلم میں شامل تینوں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کے جن اسپتالوں میں کام کیا، وہاں انہیں ایسی سرنگیں نظر نہیں آئیں۔
فلم کے ایک انتہائی ہولناک حصے میں خان یونس کے ناصر اسپتال میں ایک حملے کے بعد زخمیوں کی مدد کرنے والے امدادی کارکنوں پر دوبارہ حملے کا منظر بھی شامل ہے۔
فلم کی ہدایت کار پوہ سی ٹینگ کے لیے سب سے مشکل سوال یہ تھا کہ جنگ کی تباہی اور ہلاکتوں کی کتنی تصاویر ناظرین کو دکھائی جائیں۔ ان کے مطابق بہت زیادہ مناظر دکھانے سے بات غیر ضروری حد تک خوفناک ہوسکتی ہے، جبکہ بہت کم دکھانے سے حقیقت پوری طرح سامنے نہیں آتی۔
فلم کے آغاز میں بھی یہی سوال اٹھایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر دکھانا ان کی عزتِ نفس کے خلاف تو نہیں۔ تاہم ڈاکٹر پرلمٹر کا مؤقف تھا کہ امریکی عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے ٹیکس سے فراہم ہونے والی امداد اور ہتھیاروں کا اثر زمین پر کیا ہو رہا ہے۔
فلم میں شامل فلسطینی نژاد امریکی ایمرجنسی ڈاکٹر ثائر احمد کا کہنا ہے کہ غزہ میں بچوں کے بھوکے ہونے، ماؤں کے اپنے بچوں کو کھانا فراہم نہ کرپانے اور نوجوانوں کے بمباری میں مارے جانے کی خبر سن کر فوری ردعمل یہ ہونا چاہیے کہ یہ صورتحال روکنی ہوگی۔
ان کے مطابق متاثرین کے مذہب، پس منظر یا جائے پیدائش پر بحث کرنے کے بجائے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
تینوں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی میڈیا اور کانگریس کے ارکان سے گفتگو کے دوران غزہ کی صورتحال کی سنگینی بار بار بیان کرنا پڑتی ہے۔ فلم کی ہدایت کار کے مطابق اس موضوع پر دستاویزی فلم بنانا بھی آسان نہیں تھا اور انہیں ایسے وقت میں مالی معاونت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں جب غزہ میں ہونے والی تباہی پر بات کرنا سیاسی طور پر حساس معاملہ تھا۔











